سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي الاِنْتِفَاءِ مِنَ الْوَلَدِ باب: لڑکے کا انکار کرنے پر وارد وعید اور شناعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلًا لَيْسَ مِنْهُمْ ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ، وَلَا يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو عورت کسی قوم ( خاندان و قبیلے ) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم ( خاندان و قبیلے ) کا نہ ہو ( یعنی زنا و بدکاری کرے ) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور ( ایسے ہی ) جو شخص اپنے بیٹے کا ( کسی بھی سبب سے ) انکار کر دے اور دیکھ رہا ( اور سمجھ بوجھ رہا ) ہو ( کہ وہ بیٹا اسی کا ہے ) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کر لے گا ۱؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " جو عورت کسی قوم (خاندان و قبیلے) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم (خاندان و قبیلے) کا نہ ہو (یعنی زنا و بدکاری کرے) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور (ایسے ہی) جو شخص اپنے بیٹے کا (کسی بھی سبب سے) انکار کر دے اور دیکھ ر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3511]
(2) "اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں" مبالغہ ہے۔ ظاہر الفاظ مقصود نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بہت بڑا گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔ یا آئندہ آنے والا جملہ "اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا۔" اس کی تفسیر ہے۔
(3) "جب کہ وہ بچہ اسے دیکھ رہا ہو‘ یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے: "جبکہ وہ آدمی بچے کو دیکھ رہا ہو کہ واقعتا میرا ہے۔" واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2263]
کوئی عورت کہیں بدکاری کرے اور حاملہ ہو جائے اور پھر بچے کو شوہر اور اس کی قوم سے ملادے یا کوئی باپ بلاوجہ معقول ومشروع بچے سے انکار کردے تو یہ انتہائی مکروہ اور غلیظ کام ہے۔
اور یہ دونوں عمل کبائر میں سے ہیں۔