سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : إِذَا عَرَّضَ بِامْرَأَتِهِ وَشَكَّ فِي وَلَدِهِ وَأَرَادَ الاِنْتِفَاءَ مِنْهُ باب: مرد عورت پر بدکاری کا شبہ کرے اور بیٹے کے بارے میں شک کرے اور اس سے اپنی برأت کا ارادہ کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ ، وَهُوَ يُرِيدُ الِانْتِفَاءَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ : فِيهَا ذَوْدُ وُرْقٍ ، قَالَ : فَمَا ذَاكَ تُرَى ؟ قَالَ : لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ ، قَالَ : فَلَعَلَّ هَذَا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ , قَالَ : فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ " .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ ، اس نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” ان کے رنگ کیسے ہیں ؟ “ اس نے کہا : سرخ ، آپ نے فرمایا : ” کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے ؟ “ اس نے کہا ( جی ہاں ) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا ؟ “ اس نے کہا : کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا ۔ آپ نے فرمایا : ” ( یہ بھی ایسا ہی سمجھ ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
تشریح: الفاظ حدیث فلعل ابنُكَ ھَذَا نَزَعَهُ سے نکلا کہ صرف لڑکے کی صورت یا رنگ کے اختلاف پر یہ کہنا درست نہیں کہ یہ لڑکا میرا نہیں ہے جب تک قوی دلیل سے حرام کا ری ثبوت نہ ہو۔
مثلاً آنکھوں سے اس کو زنا کراتے ہوئے دیکھا ہو یا جب خاوند نے جماع کیا ہو اس سے چھ مہینے کم میں لڑکا پیدا ہو، جب جماع کیا ہو اس سے چار برس بعد بچہ پیدا ہو۔
حدیث سے بھی یہی نکلا کہ اشارہ اور کنایہ میں قذف کرناموجب حد نہیں اور مالکیہ کے نزدیک اس میں بھی حد واجب ہوگی۔
(1)
جو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا اس نے دوٹوک الفاظ میں نومولود کی نفی نہیں کی بلکہ نفی کا اشارہ کیا تھا کہ میرا رنگ سفید ہے اور میرے ہاں بچہ سیاہ فام ہے، اس کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال دے کر اسے مطمئن کر دیا۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ کسی شکل و صورت یا رنگ کے اختلاف پر یہ کہنا درست نہیں کہ یہ میرا بیٹا نہیں جب تک حرام کاری کا واضح ثبوت نہ ہو، مثلاً: نکاح کے بعد چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ پیدا ہوا تو انکار کیا جا سکتا ہے۔
(3)
امام بخاری رحمہ اللہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اشارے اور کنائے سے حد قذف نہیں لگائی جا سکتی اور نہ یہ لعان کا باعث ہے جبکہ مالکی حضرات کے نزدیک اشارے اور کنائے سے حد قذف لگائی جا سکتی ہے۔
(فتح الباري: 549/9)
اس لیے کہ بعض اوقات ماں باپ دونوں گورے ہوتے ہیں مگر لڑکا سانولا پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ماں حمل کی حالت میں کسی سانولے مرد کو یا کالی چیز کو دیکھتی رہتی ہے۔
اس کا رنگ بچہ کے رنگ پر اثر کرتا ہے۔
البتہ اعضاء میں مناسبت ماں باپ سے ضرور ہوتی ہے مگر وہ بھی ایسی مخلوط کہ جس کو قیافہ کا علم نہ ہو وہ نہیں سمجھ سکتا۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ تعریض کے طور پر قذف کرنے میں حد نہیں پڑتی۔
امام شافعی اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہما کا یہی قول ہے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حد لگاتے۔
مرد نے اپنی عورت کے متعلق جو کہا یہی تعریف کی مثال ہے۔
اس نے صاف یوں نہیں کہا کہ لڑکا حرام کا ہے مگر مطلب یہی ہے کہ وہ لڑکا میرے نطفے سے نہیں ہے کیوں کہ میں گورا ہوں میرا لڑکا تو میری طرح گورا ہی ہوتا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہی حکمت بتائی اور اس مرد کی تشفی ہو گئی۔
(1)
اس حدیث میں تعریض اور اشارہ اس طرح ہے کہ بچے کا کالا پیدا ہونا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی ماں نے ایسے شخص سے زنا کیا ہے جس کا رنگ کالا تھا کیونکہ میں سفید رنگ کا ہوں۔
یہ امر واضح ہے کہ تعریض کے ساتھ قذف، صریح قذف کے حکم میں نہیں، لہٰذا ایسا شخص قاذف نہیں ہوگا اور نہ ایسے شخص کی گواہی ہی مردود ہوگی کیونکہ حد قذف واضح تصریح سے واجب ہوتی ہے، تعریض یا اشارے میں حد قذف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، البتہ ایسے شخص کے لیے بھی ڈانٹ ڈپٹ ضروری ہے۔
تعریض اور تصریح میں فرق یہ ہے کہ دوران عدت میں عورت سے نکاح کی تعریض ہو سکتی ہے لیکن تصریح نہیں ہونی چاہیے جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت کی ہے۔
(2)
واضح رہے کہ اس قسم کا سوال تین طرح سے کیا جا سکتا ہے: ٭جس خاوند کا رنگ سفید ہو اور اس کی بیوی سیاہ رنگ کا بچہ جنم دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ ٭میری بیوی نے سیاہ رنگ کا بچہ جنم دیا ہے جبکہ میں سفید رنگ کا ہوں، اس کا کیا حکم ہے؟ ٭میری بیوی نے زنا کیا ہے اور سیاہ رنگ کا بچہ جنم دیا ہے جبکہ میں سفید رنگ کا ہوں، اس کا کیا حکم ہے؟پہلا سوال، محض سوال، دوسرا تعریض اور تیسرا تصریح قذف ہے۔
بہرحال اس قسم کی تعریض سے حد قذف نہیں لگتی۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان بھی یہی ہے بصورت دیگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قذف لگاتے۔
واللہ أعلم
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو رنگ مختلف ہونے پر قیاس کیا ہے اور اس میں قیاس صحیح کی شرائط کا بھی پتاچلتا ہے کیونکہ اصل، یعنی اونٹوں کا رنگ مختلف ہونا واضح اور بین ہے۔
جس کااعرابی نے انکار نہیں کیا اور اس کی علت بھی نمایاں ہے جس کی خود اعرابی نے نشاندہی کی ہے۔
اس کا مقصود بھی اعرابی کو مطمئن کرنا تھا۔
اس کی فرع بچوں کی رنگت ہے اور حکم اس رنگت کا مختلف ہونا ہے۔
اس کے علاوہ قرآن وحدیث سے حجیت قیاس پر متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔
واللہ أعلم۔
(1)
اورق جمع ورق: خاکستری، مٹیالا۔
(2)
عرق: جڑ، اصل، رگ، مقصود خاندانی نسبت ہے۔
فوائد ومسائل: بنو فزارہ کے فرد ضمضم بن قتادہ نے اپنی رنگت کا لحاظ کرتے ہوئے بیٹے کی سیاہ رنگت پر ناپسندیدگی اور تعجب کا اظہارکیا۔
اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا۔
آپ نے بات سمجھانے کے لیے ایک تشبیہ اور تمثیل پیش کی تھی کہ بات ذہن نشین ہو جائے یہ قیاس اصطلاحی نہیں ہے کہ اس کو دلیل قیاس بنایا جا سکے۔
لیکن بہر حال اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے، محض اختلاف رنگت سے بچے کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اور اس طرح بچے کی رنگت پر تعجب اور ناپسندیدگی کا اظہار الزام تراشی اور تہمت قرارنہیں دیا جائے گا۔
یا قذف میں تعریض واشارہ پر حد نہیں ہے تصریح کی صورت میں ہی قذف شمار ہوگا اور جمہور کا یہی موقف ہے۔
میں اس کا انکار کرتا ہوں، معنی کرنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ تو صریح قذف ہے، حالانکہ آپ نے اس کو قذف قرارنہیں دیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب فرشتوں کو دیکھا تو ﴿نَكِرَهُمْ﴾ ان کو اجنبی اور بیگانہ پایا اور حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے تو فرمایا: ﴿إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ﴾ ’’تم اجنبی اور بیگانہ لوگ ہو‘‘
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیوی سے ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ” تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ “ اس نے کہا: ہاں، آپ نے پوچھا: ” وہ کس رنگ کے ہیں؟ “ اس نے کہا: سرخ۔ آپ نے پوچھا: ” کیا اس میں کوئی مٹمیلے رنگ کا بھی ہے؟ “ اس نے کہا: ہاں، اس میں ایک خاکستری رنگ کا بھی ہے۔ آپ نے پوچھا: ” وہ کہاں سے آیا؟ “ اس نے کہا: شاید وہ کوئی خاندانی رگ کھینچ لایا ہو گا ۱؎، آپ نے فرمایا: ” اس لڑکے نے بھی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الولاء والهبة/حدیث: 2128]
وضاحت:
1؎:
یعنی اس کے باپ دادا میں سے کوئی اس رنگ کا ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ “ اس نے جواب دیا: ہاں، پوچھا: ” کون سے رنگ کے ہیں؟ “ جواب دیا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا کوئی خاکستری بھی ہے؟ “ جواب دیا: ہاں، خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ “، بولا: شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہاں بھی ہو سکتا ہے (تمہارے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2260]
1۔
محض رنگ وروپ کی بناء پر اپنے بچے سے انکار کردینا حرام ہے۔
ہاں کوئی اور واضح دلیل ہو تو اور بات ہے۔
مثلاًشوہر کے غائب رہنے کی صورت میں حمل اور ولادت ہو یا بعد از نکاح چھ ماہ سے کم میں ولادت ہو وغیرہ۔
اس حدیث میں مذکور شخص کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس کا نام ضمضم بن قتادہ تھا۔
(کتاب الغوا مض عبد الغنی بن سعید)
2۔
قاضی مفتی اور داعی حضرات کو چاہیے کہ شرعی مسائل سے حسب ضرورت واقعاتی مثالوں سے واضح فرمایا کریں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ “ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ” کس رنگ کے ہیں؟ “، اس نے کہا لال رنگ (کے ہیں)، آپ نے فرمایا: ” کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ “ اس نے کہا: (جی ہاں) ان میں خاکست۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3508]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟ “، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ “، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3510]
(2) ”اس کے بستر پر“ یعنی اس کی بیوی یا لونڈی سے پیدا ہوا ہو۔ بیوی یا لونڈی کو استعارتاً بستر کہہ دیا جاتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا بچہ جنا ہے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں “؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان کے رنگ کیا ہیں “؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے “؟ اس نے کہا: ہاں، ان میں خاکی رنگ کے بھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان میں خاکی رنگ کہاں سے آیا “؟ اس نے کہا: کسی رگ نے یہ ر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2002]
فوائد و مسائل:
(1)
باپ اور بیٹے کے رنگ میں فرق اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ بیٹا اپنے باپ کی جائز اولاد نہیں۔
(2)
رگ کے زور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ودھیال یا ننھیال کے کسی بزرگ: مثلاً: دادی، دادا، نانی، نانا یا ان کے بزرگوں میں سے کسی کی مشابہت بچے میں آگئی ہے، یعنی ان کے خون کا اثر ہے۔
(3)
اپنی بیوی پر اس طرح اشارے کنائے سے شک کا اظہار بیوی پر اس الزام میں شمار نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں لعان کی ضرورت پڑتی ہے۔
لعان اس وقت ہوتا ہے جب مرد صاف طور پراپنی بیوی پر بدکاری کا الزام عائد کرے یا یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرے کہ یہ بچہ میرا نہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میری بیوی نے کالے رنگ کا بچہ جنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا ” کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟ “ تو اس نے کہا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” ان کے رنگ کیا ہیں؟ “ اس نے کہا سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ “ اس نے کہا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” وہ کہاں سے آ گیا؟ “ وہ بولا کوئی رگ اسے کھینچ لائی ہو گی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پھر تیرے اس بیٹے کو بھی کوئی رگ کھینچ لائی ہو گی۔ “ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ وہ اس بچے کی نفی کی طرف اشارہ کر رہا تھا اور اس روایت کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نفی کی رخصت و اجازت نہ دی۔ «بلوغ المرام/حدیث: 944»
«أخرجه البخاري، الطلاق، باب إذا عرّض بنفي الولد، حديث:5305، ومسلم، اللعان، حديث:1500.»
تشریح: 1. کالے رنگ نے صحابی کو مغالطے اور اشتباہ میں مبتلا کر دیا کہ ہم میاں بیوی میں سے تو کوئی بھی سیاہ رنگ کا نہیں‘ پھر یہ بچہ اس رنگ کا کہاں سے پیدا ہوگیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اس نے عندیہ اور مافی الضمیر ظاہر کیا تو آپ نے اسے ڈانٹ پلائی نہ اس کی بیوی کی صریح الفاظ میں صفائی پیش فرمائی‘ بلکہ عربوں کی ذہنی سطح پر اتر کر آپ نے سمجھایا اور اس کے مغالطے کی تصحیح کردی کہ سفید رنگ کے زوجین (میاں بیوی) کے ہاں سیاہ رنگ بچے کی پیدائش بچے کی ماں کی بدکاری و بدچلنی پر دلالت نہیں کرتی۔
یہ خاندانی اثرات ہوتے ہیں جو کبھی بہت دور نسل میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔
اس سے بچے کے نسب پر درحقیقت کوئی عیب اور نقص واقع نہیں ہوتا۔
2. اس سے معلوم ہوا کہ سائل کو جواب حکمت سے اور اس کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھ کر دینا چاہیے۔
فلسفیانہ جواب کی بجائے عام روزمرہ کی مثالوں سے جواب دینا تفہیم مدعا کے لیے زیادہ مفید اور کارگر ہے۔
3.اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس چیز کی حقیقت کا علم نہ ہو اسے صاحب علم سے دریافت کر لینا انسان کوبہت بڑے فتنے سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس حدیث میں ذکر ہے کہ اگر کبھی اولاد میں سے ایک کا رنگ دوسرے بچوں کے بالکل مخالف ہو تو پریشان نہیں ہونا چاہیے، اور گمان نہیں کرنا چاہے کہ یہ بچہ میرے نطفے سے نہیں ہے، بلکہ بعض دفعہ وہ بچہ اپنے خاندان کے پہلے گزرے ہوئے انسان کی مثل ہوتا ہے، اسی چیز کو رگ سے تعبیر کیا گیا ہے۔