سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : اللِّعَانِ فِي قَذْفِ الرَّجُلِ زَوْجَتَهُ بِرَجُلٍ بِعَيْنِهِ باب: بیوی پر متعین شخص سے بدکاری کی تہمت پر لعان کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَ : سُئِلَ هِشَامٌ عَنِ الرَّجُلِ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ , فَحَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ ذَلِكَ ، وَأَنَا أَرَى أَنَّ عِنْدَهُ مِنْ ذَلِكَ عِلْمًا ، فَقَالَ : إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ ، وَكَانَ أَخُو الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : " ابْصُرُوهُ ، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ ، فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ ، فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ " ، قَالَ : فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ .
´عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ` ہشام سے ایک ایسے شخص سے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی پر زنا و بدکاری کا تہمت لگاتا ہے تو ہشام نے ( اس کے جواب میں ) محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا اور یہ سمجھ کر پوچھا کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہو گا تو انہوں نے کہا : ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ٹھہرایا ۔ بلال براء بن مالک کے ماں کے واسطہ سے بھائی تھے اور یہ پہلے شخص تھے جن ہوں نے لعان کیا ۱؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا ۔ پھر فرمایا : ” بچے پر نظر رکھو اگر وہ بچہ جنے گورا چٹا ، لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا تو سمجھو کہ وہ ہلال بن امیہ کا بیٹا ہے اور اگر وہ سرمئی آنکھوں والا ، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی ٹانگوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو ) وہ شریک بن سحماء کا ہے ۔ “ وہ ( یعنی انس رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں : مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سرمئی آنکھوں والا ، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ چنا ۲؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ ہشام سے ایک ایسے شخص سے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی پر زنا و بدکاری کا تہمت لگاتا ہے تو ہشام نے (اس کے جواب میں) محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا اور یہ سمجھ کر پوچھا کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہو گا تو انہوں نے کہا: ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ٹھہرایا۔ بلال براء بن مالک کے ماں کے واسطہ سے بھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3498]