أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : تَظَاهَرَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَتِهِ ، فَأَصَابَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ " قَالَ : رَحِمَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا أَوْ سَاقَيْهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
´عکرمہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا ( یعنی اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح کہہ کر حرام کر لیا ) پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے صحبت کر لی ، پھر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ( کہ ایسا ایسا ہو گیا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کس چیز نے تمہیں اس قدر بے قابو کر دیا کہ تم اس کام کے کرنے پر مجبور ہو گئے “ ، اس نے کہا : اللہ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر اللہ کے رسول ! میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی پازیب دیکھ لی ( راوی کو شبہ ہو گیا کہ یہ کہا یا یہ کہا ) کہ میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی ( چمکتی ہوئی ) پنڈلیاں دیکھ لیں ( تو مجھ سے رہا نہ گیا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے دور رہو جب تک کہ وہ نہ کر لو جس کا اللہ عزوجل نے تمہیں کرنے کا حکم دیا ہے “ ( یعنی کفارہ ادا کر دو ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا (یعنی اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح کہہ کر حرام کر لیا) پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے صحبت کر لی، پھر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا (کہ ایسا ایسا ہو گیا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” کس چیز نے تمہیں اس قدر بے قابو کر دیا کہ تم اس کام کے کرنے پر مجبور ہو گئے “، اس نے کہا: اللہ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر اللہ کے رسول! میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی پازیب دیکھ لی (راوی کو شب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3488]
(2) ”اللہ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے۔“ سابقہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے لیے دعا کی تھی‘ حالانکہ اس نے غلطی کا ارتکاب کیا تھا‘ مگر رسول اللہ ﷺ بہترین معلم ومربی تھے کہ آپ نے حسن خلق سے غلط کاروں کی اصلاح فرمائی۔ﷺ۔
سلیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انہیں صدقہ کر دو “، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھا لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2217]
ان کا یہ مطلب تھا کہ غربت کے لحاظ سے ہم سے زیادہ اس صدقے کا مستحق اور کوئی نہیں۔
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ “ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2221]
ظہار میں کفارہ ادا کرنے سے پہلے قربت جائز نہیں ہے۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا۔ آپ نے فرمایا: ” کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟ “ اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں (تو بے قابو ہو گیا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے (یعنی کفارہ دے دو)۔“ اسحاق بن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3489]