سنن نسائي
كتاب المياه— کتاب: پانی کے احکام و مسائل
بَابُ : الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الإِنْسَانُ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ باب: وضو اور غسل میں انسان کے لیے کتنا کتنا پانی کافی ہے؟
حدیث نمبر: 347
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ " يَتَوَضَّأُ بِمُدٍّ وَيَغْتَسِلُ بِنَحْوِ الصَّاعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو ، اور ایک صاع کے برابر پانی سے غسل کرتے تھے ۔