حدیث نمبر: 3460
أخبرنا محمد بن منصور قال حدثنا سفيان عن عبد الملك بن عمير عن عطية القرظي قال : كنت يوم حكم سعد في بني قريظة غلاما فشكوا في فلم يجدوني أنبت فاستبقيت فها أنا ذا بين أظهركم ‏.‏
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ` جب سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے مردوں کے قتل کا فیصلہ دیا تو اس وقت میں بچہ تھا ، لوگوں کو میرے متعلق شبہ ہوا ( کہ میں فی الواقع بچہ ہوں یا جوان ؟ جب انہوں نے تحقیق کی ) تو مجھے زیر ناف کے بالوں والا نہیں پایا اور میں بچ رہا ۔ چنانچہ میں آج تمہارے درمیان موجود ہوں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3460
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحدود 17 (4404)، سنن الترمذی/السیر 29 (1584)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (2541)، مسند احمد (4/310، 383، و5/311، 312، سنن الدارمی/السیر 26 (2507)، ویأتي عند المؤلف في القطع 17 برقم: 4984، 4405 (صحیح)»