سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : طَلاَقِ الْعَبْدِ باب: غلام کے طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3458
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، عَنْ الْحَسَنِ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ " عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ، ثُمَّ عُتِقَا ، أَيَتَزَوَّجُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : عَمَّنْ ؟ قَالَ : أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ : الْحَسَنُ هَذَا مَنْ هُوَ لَقَدْ حَمَلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بنی نوفل کے غلام حسن کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک غلام کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں پھر وہ دونوں آزاد کر دیے گئے ، پوچھا گیا : کیا وہ اس سے شادی کر سکتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، ( کر سکتا ہے ) کسی نے کہا کس سے سن کر یہ بات کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فتویٰ دیا ہے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے کہا : یہ حسن کون ہیں ؟ انہوں نے تو اپنے سر پر ایک بڑی چٹان لاد لی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: غلام دو طلاق دیدے تو عورت بائنہ ہو جاتی ہے، بائنہ ہو جانے کے بعد عورت جب تک کسی اور سے شادی نہ کر لے اور طلاق یا موت کسی بھی وجہ سے اس کی علیحدگی نہ ہو جائے تو وہ عورت پہلے شوہر سے دوبارہ شادی نہیں کر سکتی ہے۔ لیکن یہاں دونوں کو آزاد ہو جانے کے بعد بغیر حلالہ کے شادی کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اب یہ روایت - اللہ نہ کرے - غلط ہوئی تو اس طرح کی سبھی شادیوں کا وبال اس راوی حسن کے ذمہ آئے گا اور وہ گویا ایک بڑی چٹان کے نیچے دب کر رہ جائے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´غلام کے طلاق دینے کا بیان۔`
بنی نوفل کے غلام حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک غلام کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں پھر وہ دونوں آزاد کر دیے گئے، پوچھا گیا: کیا وہ اس سے شادی کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، (کر سکتا ہے) کسی نے کہا کس سے سن کر یہ بات کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے کہا: یہ حسن کون ہیں؟ انہوں نے تو اپنے سر پر ایک بڑی چٹان لاد لی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3458]
بنی نوفل کے غلام حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک غلام کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں پھر وہ دونوں آزاد کر دیے گئے، پوچھا گیا: کیا وہ اس سے شادی کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، (کر سکتا ہے) کسی نے کہا کس سے سن کر یہ بات کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے کہا: یہ حسن کون ہیں؟ انہوں نے تو اپنے سر پر ایک بڑی چٹان لاد لی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3458]
اردو حاشہ: حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حدیث قابل عمل نہیں ہوگی‘ اس لیے انہوں نے اسے "بھاری پتھر" قراردیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3458 سے ماخوذ ہے۔