سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ } باب: آیت کریمہ: ”اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا اسے آپ کیوں حرام ٹھہراتے ہیں“ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3449
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا ، قَالَ : كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 ، عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَةِ ، عِتْقُ رَقَبَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا : میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے ، تو انہوں نے اس سے کہا : تم غلط کہتے ہو وہ تم پر حرام نہیں ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ( اور کہا ) تم پر سخت ترین کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: سخت ترین کفارہ کا ذکر اس لیے کیا تاکہ لوگ ایسے عمل سے باز رہیں ورنہ ظاہر قرآن سے کفارہ یمین کا ثبوت ملتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´آیت کریمہ: ”اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا اسے آپ کیوں حرام ٹھہراتے ہیں“ کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، تو انہوں نے اس سے کہا: تم غلط کہتے ہو وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» (اور کہا) تم پر سخت ترین کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3449]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، تو انہوں نے اس سے کہا: تم غلط کہتے ہو وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» (اور کہا) تم پر سخت ترین کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3449]
اردو حاشہ: (1) ”تونے جھوٹ کہا“ یعنی تیرا اپنی بیوی کو اپنے لیے حرام کہنا جھوٹ اور غلط بات ہے کیونکہ بیوی کیسے حرام ہوسکتی ہے؟ ہاں طلاق کی نیت سے کہے تو الگ بات ہے۔
(2) ”تجھ پر سخت ترین کفارہ ہوگا“ کیونکہ تو نے انتہائی قبیح بات کہی۔ بیوی تو حرام نہیں ہوگی مگر اس قبیح بات کی سزا تجھے برداشت کرنا ہوگی۔ (دیکھیے‘ حدیث: 3411)
(3) ”ایک غلام آزاد کرنا“ قرآن مجید کے علاوہ مسکینوں کا کھانا یا لباس یا روزے بھی آتے ہیں۔ ممکن ہے یہ شخص امر ہو‘ اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے سختی ضروری سمجھی اور غلام آزاد کرنے کا کہا ہو۔ واللہ أعلم
(2) ”تجھ پر سخت ترین کفارہ ہوگا“ کیونکہ تو نے انتہائی قبیح بات کہی۔ بیوی تو حرام نہیں ہوگی مگر اس قبیح بات کی سزا تجھے برداشت کرنا ہوگی۔ (دیکھیے‘ حدیث: 3411)
(3) ”ایک غلام آزاد کرنا“ قرآن مجید کے علاوہ مسکینوں کا کھانا یا لباس یا روزے بھی آتے ہیں۔ ممکن ہے یہ شخص امر ہو‘ اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے سختی ضروری سمجھی اور غلام آزاد کرنے کا کہا ہو۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3449 سے ماخوذ ہے۔