سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : إِحْلاَلِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثًا وَالنِّكَاحِ الَّذِي يُحِلُّهَا بِهِ باب: تین طلاق والی عورت کا حلالہ اور اس کے لیے حلال و جائز کر دینے والے نکاح کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ، فَيَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُغْلِقُ الْبَاب : وَيُرْخِي السِّتْرَ ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ؟ قَالَ : " لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ ، حَتَّى يُجَامِعَهَا الْآخَرُ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ .
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں ( مغلظہ ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کر لیتا ہے اور ( اسے لے کر ) دروازہ بند کر لیتا ہے ، پردے گرا دیتا ہے ، ( کہ کوئی اندر نہ آ سکے ) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی جب تک اس کا دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کر لے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ حدیث صواب سے قریب تر ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں (مغلظہ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کر لیتا ہے اور (اسے لے کر) دروازہ بند کر لیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، (کہ کوئی اندر نہ آ سکے) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3444]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کر لیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " وہ عورت ایسا نہیں کر سکتی جب تک کہ اس (دوسرے شوہر) کے شہد کو نہ چکھ لے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3443]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1933]
فائدہ: ’’لذت‘‘ سے مراد مقاربت یعنی عمل زوجیت ہے جیسا کہ گزشتہ فوائد میں تفصیل گزری۔