سنن نسائي
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
بَابُ : إِحْلاَلِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثًا وَالنِّكَاحِ الَّذِي يُحِلُّهَا بِهِ باب: تین طلاق والی عورت کا حلالہ اور اس کے لیے حلال و جائز کر دینے والے نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: 3442
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ الْغُمَيْصَاءَ أَوْ الرُّمَيْصَاءَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا ، أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هِيَ كَاذِبَةٌ وَهُوَ يَصِلُ إِلَيْهَا ، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ ذَلِكَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبیداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` غمیصاء یا رمیصاء نامی عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ وہ اس کے پاس نہیں آتا ، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کا شوہر بھی آ گیا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ جھوٹی عورت ہے ، وہ اس کے پاس جاتا ہے ، لیکن یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہے ( اس لیے ایسا کہہ رہی ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کا شہد چکھ نہ لو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´تین طلاق والی عورت کا حلالہ اور اس کے لیے حلال و جائز کر دینے والے نکاح کا بیان۔`
عبیداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نامی عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ وہ اس کے پاس نہیں آتا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کا شوہر بھی آ گیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جھوٹی عورت ہے، وہ اس کے پاس جاتا ہے، لیکن یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہے (اس لیے ایسا کہہ رہی ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ تمہارے [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3442]
عبیداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نامی عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ وہ اس کے پاس نہیں آتا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کا شوہر بھی آ گیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جھوٹی عورت ہے، وہ اس کے پاس جاتا ہے، لیکن یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہے (اس لیے ایسا کہہ رہی ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ تمہارے [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3442]
اردو حاشہ: (1) وہ عورت اپنے بیان کے مطابق پہلے خاوند کے نکاح میں نہیں جاسکتی تھی کیونکہ اس کے بقول خاوند جماع کے قابل نہیں تھا۔ اور جب تک وہ جماع نہ کرے اور طلاق نہ دے‘ ا س وقت تک وہ پہلے خاوند کے پاس نہیں جاسکتی تھی‘ لہٰذا اس کا بیان اس کے خلاف پڑگیا۔
(2) رُمَیْصَاء حضرت انس کی والدہ ام سلیمؓ کا لقب بھی تھا مگر یہ کوئی اور عورت تھی۔
(2) رُمَیْصَاء حضرت انس کی والدہ ام سلیمؓ کا لقب بھی تھا مگر یہ کوئی اور عورت تھی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3442 سے ماخوذ ہے۔