حدیث نمبر: 344
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ ، قال أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَاسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ نہی تحریمی نہیں تنزیہی ہے، (دیکھیں پچھلی حدیث)۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المياه / حدیث: 344
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطھارة 40 (82)، سنن الترمذی/فیہ 47 (64)، سنن ابن ماجہ/فیہ 34 (373)، (تحفة الأشراف 3421)، مسند احمد 4/213 و 5/66 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 64 | سنن ابي داود: 82 | سنن ابن ماجه: 373

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت کا بیان۔`
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 344]
344۔ اردو حاشیہ: دیکھیے سنن نسائی حدیث: 72، 233، 239 اور ان کے فوائد و مسائل:
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 344 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 64 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان۔`
حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 64]
اردو حاشہ:
1؎:
اس نہی سے نہی تنزیہی مراد ہے، یعنی نہ استعمال کرنا بہتر ہے، اس پر قرینہ وہ احادیث ہیں جو جواز پر دلالت کرتی ہیں، یا یہ ممانعت محمول ہوگی اس پانی پر جو اعضائے وضو سے گرتا ہے کیونکہ وہ ماءِ مستعمل (استعمال ہواپانی) ہے۔

2؎:
مطلب یہ کہ محمود بن غیلان کی روایت شک کے صیغے کے ساتھ ہے اور محمد بن بشار کی بغیر شک کے صیغے سے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 64 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 82 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا ممانعت کا بیان`
«. . . أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ . . .»
. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 82]
فوائد و مسائل:
یہ نہی یا تو رخصت سے پہلے کی ہے یا احتیاط پر محمول ہے۔ تاہم کتاب العلل ترمذی میں ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے حکم بن عمرو اقرع کی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اور صحیح تر وہی ہے جو پچھلے باب میں مذکور ہوا کہ عورت مرد ایک دوسرے کے استعمال شدہ اور بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کر سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 82 سے ماخوذ ہے۔