حدیث نمبر: 3422
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُهُ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مجاہد ( اپنے استاذ ) ابن عباس رضی الله عنہما سے` اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» یعنی ” جب عورت حیض سے پاک ہو جائے اور اس سے اس طہر میں صحبت بھی نہ کی جائے تب طلاق دینی چاہیئے “ کے سلسلے میں روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لعدتهن» کی جگہ «قبل عدتهن» پڑھا ہے ۱؎ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الطلاق / حدیث: 3422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6389) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عورتوں کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دی جانے والی عدت کا بیان۔`
مجاہد (اپنے استاذ) ابن عباس رضی الله عنہما سے اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» یعنی " جب عورت حیض سے پاک ہو جائے اور اس سے اس طہر میں صحبت بھی نہ کی جائے تب طلاق دینی چاہیئے " کے سلسلے میں روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لعدتهن» کی جگہ «قبل عدتهن» پڑھا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3422]
اردو حاشہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ طلاق عدت سے پہلے ہونی چاہیے‘ یعنی طہر میں کیونکہ عدت کا آغاز حیض سے ہوتا ہے۔ اگر طلاق حیض میں ہوئی تو وہ عدت کے دوران میں ہوگی جو درست نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3422 سے ماخوذ ہے۔