حدیث نمبر: 3414
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : افْتَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ , فَتَجَسَّسْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ , أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ : " سُبْحَانَكَ , وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " . فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي , إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ ، وَإِنِّي لَفِي آخَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا ، مجھے گمان ہوا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے پاس گئے ہوں گے ، میں آپ کو تلاش کرنے لگی پھر میں لوٹی تو دیکھا کہ آپ رکوع یا سجدے میں ہیں ، آپ کہہ رہے ہیں : «سبحانك و بحمدك لا إله إلا أنت» میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کچھ کر رہے ہیں اور میں کچھ اور ہی گمان کر رہی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب عشرة النساء / حدیث: 3414
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 169، 1131، 1132 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´غیرت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، مجھے گمان ہوا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے پاس گئے ہوں گے، میں آپ کو تلاش کرنے لگی پھر میں لوٹی تو دیکھا کہ آپ رکوع یا سجدے میں ہیں، آپ کہہ رہے ہیں: «سبحانك و بحمدك لا إله إلا أنت» میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کچھ کر رہے ہیں اور میں کچھ اور ہی گمان کر رہی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3414]
اردو حاشہ: (1) "محسوس نہ کیا" گویا نیند سے اچانک جاگیں تو آپ پاس نہ تھے۔ آپ نماز آہستہ پڑھ رہے تھے تاکہ ان کی نیند خراب نہ ہو۔ انہوں نے سمجھا کہ آپ کمرے میں نہیں۔ حجرے سے باہر نکل گئیں اور سن گن لی کہ کسی حجرے سے آپ کی آواز سنائی دے۔
(2) "رکوع یا سجدے میں" گویا ان کی واپسی پر آپ نے سمجھ لیا کہ مجھے تلاش کرتی پھر رہی ہیں‘ لہـٰذا آپ نے اونچی آواز میں پڑھنا شروع کردیا۔ چونکہ مذکورہ دعا رکوع یا سجدے ہی میں ہوسکتی ہے‘ اس لیے اندازہ لگایا کہ آپ رکوع سجدے میں ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3414 سے ماخوذ ہے۔