سنن نسائي
كتاب عشرة النساء— کتاب: عورتوں کے ساتھ معاشرت (یعنی مل جل کر زندگی گزارنے) کے احکام و مسائل
بَابُ : حُبِّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَكْثَرَ مِنْ بَعْضٍ باب: ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رُمَيْثَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : " أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمْنَهَا أَنْ تُكَلِّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ ، وَتَقُولُ لَهُ : إِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةَ . فَكَلَّمَتْهُ ، فَلَمْ يُجِبْهَا , فَلَمَّا دَارَ عَلَيْهَا كَلَّمَتْهُ أَيْضًا , فَلَمْ يُجِبْهَا ، وَقُلْنَ : مَا رَدَّ عَلَيْكِ ؟ قَالَتْ : لَمْ يُجِبْنِي . قُلْنَ : لَا تَدَعِيهِ حَتَّى يَرُدَّ عَلَيْكِ أَوْ تَنْظُرِينَ مَا يَقُولُ . فَلَمَّا : دَارَ عَلَيْهَا , كَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ : " لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ إِلَّا فِي لِحَافِ عَائِشَةَ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَانِ الْحَدِيثَانِ صَحِيحَانِ عَنْ عَبْدَةَ .
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے ان سے بات کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں کہ لوگ عائشہ کی باری کے دن ہدیے اور تحفے بھیجتے ہیں اور آپ سے کہیں کہ ہمیں بھی خیر سے اسی طرح محبت ہے جیسے آپ کو عائشہ سے ہے ، چنانچہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی لیکن آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا ، جب ان کی باری کا دن آیا تو انہوں نے پھر بات کی ، آپ نے انہیں جواب نہیں دیا ۔ انہوں ( بیویوں ) نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کوئی جواب دیا ؟ وہ بولیں : کوئی جواب نہیں دیا ۔ انہوں نے کہا : تم چھوڑنا مت ، جب تک کوئی جواب نہ دے دیں ۔ ( یا یوں کہا : ) جب تک تم دیکھ نہ لو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں ۔ جب پھر ان کی باری آئی تو انہوں نے آپ سے گفتگو کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ کے تعلق سے مجھے اذیت نہ دو ، اس لیے کہ عائشہ کے لحاف کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوتے ہوئے میرے پاس وحی نہیں آئی “ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : عبدہ سے مروی یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے ان سے بات کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں کہ لوگ عائشہ کی باری کے دن ہدیے اور تحفے بھیجتے ہیں اور آپ سے کہیں کہ ہمیں بھی خیر سے اسی طرح محبت ہے جیسے آپ کو عائشہ سے ہے، چنانچہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی لیکن آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا، جب ان کی باری کا دن آیا تو انہوں نے پھر بات کی، آپ نے انہیں جواب نہیں دیا۔ انہوں (بیویوں) نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3402]
(2) ”آپ نے کوئی جواب نہ دیا“ کیونکہ لوگوں کو بذات خود تحفے بھیجنے کے لیے کہنات و شان نبوت کے منافی تھا۔ شرم وحیا مانع تھی۔ اور مساوی محبت ممکن نہ تھی‘ اس لیے کہ یہ غیر اختیاری چیز ہے جیسا کہ پیچھے گزرا۔