سنن نسائي
كتاب عشرة النساء— کتاب: عورتوں کے ساتھ معاشرت (یعنی مل جل کر زندگی گزارنے) کے احکام و مسائل
بَابُ : مَيْلِ الرَّجُلِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ دُونَ بَعْضِ باب: شوہر کا میلان کسی ایک بیوی کی طرف زیادہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3395
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ ، ثُمَّ يَعْدِلُ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ , فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ " . أَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان کچھ تقسیم کرتے تو برابر برابر کرتے ، پھر فرماتے : اللہ ! میرا یہ کام تو میرے دائرہ اختیار میں ہے ، لہٰذا تو مجھے ملامت نہ کر ایسے کام کے سلسلے میں جو تیرے اختیار کا ہے اور مجھے اس میں کوئی اختیار نہیں ۔ حماد بن زید نے یہ حدیث مرسل روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´شوہر کا میلان کسی ایک بیوی کی طرف زیادہ ہونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان کچھ تقسیم کرتے تو برابر برابر کرتے، پھر فرماتے: اللہ! میرا یہ کام تو میرے دائرہ اختیار میں ہے، لہٰذا تو مجھے ملامت نہ کر ایسے کام کے سلسلے میں جو تیرے اختیار کا ہے اور مجھے اس میں کوئی اختیار نہیں۔ حماد بن زید نے یہ حدیث مرسل روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3395]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان کچھ تقسیم کرتے تو برابر برابر کرتے، پھر فرماتے: اللہ! میرا یہ کام تو میرے دائرہ اختیار میں ہے، لہٰذا تو مجھے ملامت نہ کر ایسے کام کے سلسلے میں جو تیرے اختیار کا ہے اور مجھے اس میں کوئی اختیار نہیں۔ حماد بن زید نے یہ حدیث مرسل روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3395]
اردو حاشہ: ”میں بے بس ہوں۔“ یعنی قلبی محبت کیونکہ اس کا تعلق متعلقہ شخص کی شخصیت‘ اوصاف اور طرز عمل سے ہوتا ہے۔ ان معاملات میں افراد برابر نہیں ہوتے‘ لہٰذا محبت بھی سب سے ایک جیسی نہیں ہوسکتی۔ البتہ ظاہری طرز عمل بیویوں سے ایک جیسا ہونا ضروری ہے کیونکہ بیوی ہونے میں سب برابر ہیں اور ان کے حقوق بھی مساوی ہیں۔ رسول اللہﷺ پر ان ظاہری امور میں بھی مساوات فرض نہیں تھی مگر آپ نے اپنے طور پر مساوات کو قائم رکھا اور انصاف فرمایا…ﷺ…
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3395 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1140 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سوکنوں کے درمیان باری کی تقسیم میں برابری کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری تقسیم کرتے ہوئے فرماتے: ” اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس پر میں قدرت رکھتا ہوں، لیکن جس کی قدرت تو رکھتا ہے، میں نہیں رکھتا، اس کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا۔“ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1140]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان باری تقسیم کرتے ہوئے فرماتے: ” اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس پر میں قدرت رکھتا ہوں، لیکن جس کی قدرت تو رکھتا ہے، میں نہیں رکھتا، اس کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا۔“ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1140]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(حماد بن زید اوردیگر زیادہ ثقہ رواۃ نے اس کو ایوب سے «عن أبي قلابة عن النبي ﷺ» مرسلاً بیان کیا ہے، لیکن حدیث کا پہلا جزء «اللهم هذا قسمي فيما أملك» حسن ہے، تراجع الالبانی 346)
نوٹ:
(حماد بن زید اوردیگر زیادہ ثقہ رواۃ نے اس کو ایوب سے «عن أبي قلابة عن النبي ﷺ» مرسلاً بیان کیا ہے، لیکن حدیث کا پہلا جزء «اللهم هذا قسمي فيما أملك» حسن ہے، تراجع الالبانی 346)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1140 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2134 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی بیویوں کی) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: ” اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے (یعنی دل کا میلان) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2134]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی بیویوں کی) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: ” اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے (یعنی دل کا میلان) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2134]
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ معاشرتی برتاؤ میں میں کوتاہی نہیں کرتا، لیکن دل کا معاملہ میرے اختیار میں نہیں۔
اس لیے قلبی محبت میں کمی بیشی پر مجھے ملامت نہ کرنا۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنےوالا اگر ظاہری برتاؤ میں عدل وانصاف کا اہتمام کرتا رہے گا تو قلبی میلان کی کمی پیشی پر اس کی گرفت نہیں ہو گی۔
واللہ اعلم
مطلب یہ ہے کہ معاشرتی برتاؤ میں میں کوتاہی نہیں کرتا، لیکن دل کا معاملہ میرے اختیار میں نہیں۔
اس لیے قلبی محبت میں کمی بیشی پر مجھے ملامت نہ کرنا۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنےوالا اگر ظاہری برتاؤ میں عدل وانصاف کا اہتمام کرتا رہے گا تو قلبی میلان کی کمی پیشی پر اس کی گرفت نہیں ہو گی۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2134 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 905 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´بیویوں میں باری کی تقسیم کا بیان`
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے درمیان باری تقسیم کرتے تھے اور عدل و انصاف کو ملحوظ رکھتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرتے تھے ” الٰہی! جو میرے بس میں ہے اس کے مطابق میں نے یہ تقسیم کی ہے اور جو میرے بس میں نہیں، تیرے اختیار میں ہے، اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔ “ اسے چاروں نے روایت کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، لیکن ترمذی نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 905»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے درمیان باری تقسیم کرتے تھے اور عدل و انصاف کو ملحوظ رکھتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرتے تھے ” الٰہی! جو میرے بس میں ہے اس کے مطابق میں نے یہ تقسیم کی ہے اور جو میرے بس میں نہیں، تیرے اختیار میں ہے، اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔ “ اسے چاروں نے روایت کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، لیکن ترمذی نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 905»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في القسم بين النساء، حديث:2134، والترمذي، النكاح، حديث:1140، والنسائي، عشرة النساء، حديث:3395، وابن ماجه، النكاح، حديث:1971، وابن حبان(الموارد)، حديث:1305، والحاكم:2 /187 وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی بیویوں کے درمیان عدل و انصاف قائم رکھنا چاہیے‘ البتہ دلی میلان اگر کسی کی طرف زیادہ ہو تو اس میں کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا‘ کیونکہ عورتیں سیرت و کردار‘ اخلاق‘ حسن و جمال اور عادات و خصائل کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔
جس عورت میں حسن و جمال ‘ اخلاق و اوصاف اور شوہر کی فرمانبرداری کی خصوصیت زیادہ ہوگی‘ شوہر کا میلان قدرتی طور پر اس کی جانب زیادہ ہوگا۔
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في القسم بين النساء، حديث:2134، والترمذي، النكاح، حديث:1140، والنسائي، عشرة النساء، حديث:3395، وابن ماجه، النكاح، حديث:1971، وابن حبان(الموارد)، حديث:1305، والحاكم:2 /187 وصححه علي شرط مسلم، ووافقه الذهبي.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی بیویوں کے درمیان عدل و انصاف قائم رکھنا چاہیے‘ البتہ دلی میلان اگر کسی کی طرف زیادہ ہو تو اس میں کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا‘ کیونکہ عورتیں سیرت و کردار‘ اخلاق‘ حسن و جمال اور عادات و خصائل کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔
جس عورت میں حسن و جمال ‘ اخلاق و اوصاف اور شوہر کی فرمانبرداری کی خصوصیت زیادہ ہوگی‘ شوہر کا میلان قدرتی طور پر اس کی جانب زیادہ ہوگا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 905 سے ماخوذ ہے۔