سنن نسائي
كتاب النكاح— کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
بَابُ : الْهَدِيَّةِ لِمَنْ عَرَّسَ باب: دولہا کو ہدیہ و تحفہ دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ ، قَالَ : وَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا ، قَالَ : فَذَهَبَتْ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ ، وَتَقُولُ لَكَ : إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ ، قَالَ : " ضَعْهُ ، ثُمَّ قَالَ : اذْهَبْ ، فَادْعُ فُلَانًا وَفُلَانًا " ، وَمَنْ لَقِيتَ ، وَسَمَّى رِجَالًا ، فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى ، وَمَنْ لَقِيتُهُ ، قُلْتُ لِأَنَسٍ : عِدَّةُ كَمْ كَانُوا ؟ قَالَ : يَعْنِي زُهَاءَ ثَلَاثَ مِائَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ ، فَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ ، وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ ، قَالَ لِي : يَا أَنَسُ ، ارْفَعْ ، فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ رَفَعْتُ ، كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ وَضَعْتُ " .
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی کے پاس گئے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس بنایا ، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے عرض کیا : میری والدہ ماجدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں : یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا تحفہ ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسے رکھ دو اور جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ ، آپ نے ان کے نام لیے اور ( راستے میں ) جو بھی ملے اسے بھی بلا لو “ ۔ راوی جعد کہتے ہیں : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : وہ لوگ کتنے رہے ہوں گے ؟ کہا : تقریباً تین سو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دس آدمیوں کا حلقہ ( دائرہ ) بنا کر کھاؤ ، اور ہر شخص اپنے قریب ( یعنی سامنے ) سے کھائے “ ، تو ان لوگوں نے ( ایسے ہی کر کے ) کھایا اور سب آسودہ ہو گئے ، ( دس آدمیوں کی ) ایک جماعت کھا کر نکلی تو ( دس آدمیوں کی ) دوسری جماعت آئی ( اور اس نے کھایا اور وہ آسودہ ہوئی ، اس طرح لوگ آتے گئے اور پیٹ بھر کر کھاتے اور نکلتے گئے ، جب سب کھا چکے تو ) مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انس ! اٹھا لو ( وہ کھانا جو لائے تھے ) تو میں نے اٹھا لیا ۔ مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ جب میں نے لا کر رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب اٹھایا تب ( زیادہ تھا ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی کے پاس گئے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس بنایا، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے عرض کیا: میری والدہ ماجدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا تحفہ ہے، آپ نے فرمایا: " اسے رکھ دو اور جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ، آپ نے ان کے نام لیے اور (راستے میں) جو بھی ملے اسے بھی بلا لو۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3389]