حدیث نمبر: 3387
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ ، وَفِرَاشٌ لِأَهْلِهِ ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک بچھونا مرد کے لیے ہو ، ایک بیوی کے لیے ہو اور تیسرا مہمان کے لیے اور ( اگر چوتھا ہو گا تو ) چوتھا شیطان کے لیے ہو گا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: گویا ضرورت سے زائد بسترے رکھنا اسراف ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3387
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/اللباس 8 (2084)، سنن ابی داود/اللباس 45 (4142)، (تحفة الأشراف: 2377)، (تحفة الأشراف: 2377)، مسند احمد (3/293، 324) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2084 | سنن ابي داود: 4142

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´فرش اور بچھونے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بچھونا مرد کے لیے ہو، ایک بیوی کے لیے ہو اور تیسرا مہمان کے لیے اور (اگر چوتھا ہو گا تو) چوتھا شیطان کے لیے ہو گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3387]
اردو حاشہ: (1) رخصتی کے موقع پر دیا جانے والا سامان مناسب ہونا چاہیے بشرطیکہ دینے کی استطاعت ہو‘ فالتو سامان جو ان کے استعمال میں بھی نہ آئے‘ نہیں دینا چاہیے۔ غلو کسی بھی چیز میں نقصان دہ ہے۔ مروجہ رسم جہیز بہت سی معاشرتی خرابیوں کا سبب بنتی ہے۔ انسان مقروض ہوجاتا ہے‘ رشتے نہیں ہوتے‘ غریب لوگ بے بس ہوجاتے ہیں‘ عورتیں گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہوجاتی ہیں‘ بعد میں دنگا فساد بھی ہوتا ہے۔
(2) شیطان کے لیے یعنی جو چیز استعمال میں نہیں آتی‘ وہ رکھنا حرام ہے۔ شیطانی کام ہے۔ اگر بچے ہوں یا دوسرے افراد بھی ہوں تو ان کے لیے خواہ بس بستر ہوں‘ جائز ہیں کیونکہ وہ تو استعمال ہوتہے ہیں۔ چوتھے سے مراد غیر ضروری ہیں جو استعمال نہیں ہوتے۔ واللہ أعلم۔
(3) ممکن ہے اس باب کا مقصود یہ ہو کہ گھر میں ایک سے زائد بستر رکھے جا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ گھریلو افراد یا مہمانوں کے استعمال کے لیے ہوں‘ ورنہ ناجائز ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3387 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2084 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ’’ایک بستر خاوند کے لیے اور ایک بستر اس کی بیوی کے لیے اور تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5452]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، ظروف اور حالات کے مطابق بستر بنانا صحیح ہے، لیکن محض فخر و مباہات اور اپنی دولت مندی کے اظہار کے لیے بستروں کی بھرمار کرنا، حالانکہ کبھی ان کی ضرورت پیش نہیں آ سکتی، یہ اسراف اور تبذیر ہے، جس پر شیطان خوش ہوتا ہے اور آمادہ کرتا ہے اور بقول بعض ایسے بستروں پر شیطان ہی رات گزارتا ہے اور قیلولہ کرتا ہے، جیسا کہ اس انسان کے گھر میں رات گزارتا ہے، جو رات کو گھر داخل ہوتے وقت اللہ کو یاد نہیں کرتا اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے، حالات کے پیش نظر خاوند بیوی الگ الگ بھی سو سکتے ہیں، ہر حالت میں اکٹھے سونا لازم نہیں ہے، حالات اجازت دیں تو پھر اکٹھے سونا افضل ہے، جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2084 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4142 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بستر اور بچھونے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستروں اور بچھونوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ایک بستر تو آدمی کو چاہیئے، ایک اس کی بیوی کو چاہیئے اور ایک مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4142]
فوائد ومسائل:
گھر کے افراد اور مہمانوں کی آمد کے لحاظ سے بستروں کا اہتمام کرنا حق ہے۔
اس سے زیادہ اسراف، فخرومباہات اور زینت محض ہے جو باعث وبال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4142 سے ماخوذ ہے۔