حدیث نمبر: 3385
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى قُرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ ، وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، فِي عُرْسٍ وَإِذَا جَوَارٍ يُغَنِّينَ ، فَقُلْتُ : أَنْتُمَا صَاحِبَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ ؟ فَقَالَ : اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ ، فَاسْمَعْ مَعَنَا ، وَإِنْ شِئْتَ اذْهَبْ ، قَدْ " رُخِّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عامر بن سعد ابی وقاص کہتے ہیں کہ` میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا ، اتفاق سے وہاں لڑکیاں گا رہی تھیں ۔ میں نے ان سے کہا : آپ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور بدری بھی ہیں ، آپ کے سامنے یہ سب کیا جا رہا ہے ( اور آپ لوگ روکتے نہیں ہیں ) ؟ انہوں نے ( جواب میں ) کہا : آپ چاہیں تو بیٹھیں جیسے ہم سن رہے ہیں آپ بھی سنیں اور چاہیں تو یہاں سے ڈول جائیں ، شادی کے موقع پر ہمیں گانے بجانے کی اجازت دی گئی ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ شادی خوشی کا موقع ہے اور گانا اگر حرام چیزوں سے خالی ہو تو منع نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9993) (حسن)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´شادی کے موقع پر کھیل کود اور گانے بجانے کا بیان۔`
عامر بن سعد ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں ایک شادی میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، اتفاق سے وہاں لڑکیاں گا رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: آپ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور بدری بھی ہیں، آپ کے سامنے یہ سب کیا جا رہا ہے (اور آپ لوگ روکتے نہیں ہیں)؟ انہوں نے (جواب میں) کہا: آپ چاہیں تو بیٹھیں جیسے ہم سن رہے ہیں آپ بھی سنیں اور چاہیں تو یہاں سے ڈول جائیں، شادی کے موقع پر ہمیں گانے بجانے کی [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3385]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 3371 اور اسکا فائدہ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3385 سے ماخوذ ہے۔