حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَيُنْبَزُ قُرْقُورًا ، أَنَّهُ وَقَعَ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ ، فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، فَقَالَ : " لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ ، فَكَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجُلِدَ مِائَةً " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَكَتَبْتُ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، فَكَتَبَ إِلَيَّ بِهَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ` نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس کا نام عبدالرحمٰن بن حنین تھا اور لوگ اسے ( برے لقب ) «قرقور» ۱؎ کہہ کر پکارتے تھے ۔ وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت ( زنا ) کر بیٹھا ، یہ معاملہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : میں اس معاملے میں ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا ، اگر بیوی نے اپنی باندی کو تیرے لیے حلال کر دیا تھا تب تو ( تعزیراً ) تجھے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اسے تیرے لیے حلال نہیں کیا تھا تو تجھے سنگسار کر دوں گا ۔ ( پوچھنے پر پتہ لگا کہ ) بیوی نے وہ لونڈی اس کے لیے حلال کر دی تھی تو اسے سو کوڑے مارے گئے ۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نے حبیب بن سالم کو ( خط ) لکھا تو انہوں نے مجھے یہی حدیث لکھ کر بھیجی ۔

وضاحت:
۱؎: «قرقور» لمبی کشتی کو کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3363
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1451 | سنن ابي داود: 4459 | سنن نسائي: 3362 | سنن نسائي: 3364

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1451 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔`
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کے پاس ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا تھا، انہوں نے کہا: میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا: اگر اس کی بیوی نے اسے لونڈی کے ساتھ جماع کی اجازت دی ہے تو (بطور تادیب) اسے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو (بطور حد) اسے رجم کروں گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1451]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’حبیب بن سالم‘‘ میں بہت کلام ہے، نیز بقول خطابی ان کا سماع نعمان رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1451 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3362 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شرمگاہ کو کسی کے لیے حلال کر دینا (درست نہیں ہے)۔`
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے (آدمی کو) سو کوڑے ماروں گا ۱؎، اور اگر اس (کی بیوی) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3362]
اردو حاشہ: (1) نعمان بشیر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا اور ما بعد کی دونوں آیات سنداً ضعیف اور مضطرب ہیں۔ محقق کتاب کا ان تینوں اور ان سے ما بعد کی سلمہ بن محبق کی دو روایات کو حسن قراردینا محل نظر ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ وغیرہ نے انہیں ضعیف قراردیا ہے۔ اور انہی کی بات راجح معلوم ہوتی ہے۔ تحقیق کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الدیثیة‘ مسند الإمام احمد: 30/346۔ 348)
(2) تفہم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے سے جائز نہیں بن جاتی۔ بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قراردے تووہ لونڈی خاوند کے لیے حلال قراردے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں‘ بیوی کی لونڈی ہے۔ اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے۔ لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لونڈی ہے‘ تو تب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قراردے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو‘ اس لیے سزا میں کچھ تخفیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا‘ مگر یاد رہے اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو بالکل معاف نہیں کیا جاسکتا‘ سزا ہلکی ہوسکتی ہے۔ ہاں‘ اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کردے اور وہ اس کی لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرا دے تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3362 سے ماخوذ ہے۔