سنن نسائي
كتاب النكاح— کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّزْوِيجِ عَلَى الإِسْلاَمِ باب: اسلام قبول کر لینے کی شرط پر شادی کر لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ وَلَكِنَّكَ رَجُلٌ كَافِرٌ ، وَأَنَا امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ ، وَلَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ ، فَإِنْ تُسْلِمْ ، فَذَاكَ مَهْرِي وَمَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ، فَأَسْلَمَ فَكَانَ ذَلِكَ مَهْرَهَا ، قَالَ ثَابِتٌ : فَمَا سَمِعْتُ بِامْرَأَةٍ قَطُّ كَانَتْ أَكْرَمَ مَهْرًا مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ الْإِسْلَامَ فَدَخَلَ بِهَا فَوَلَدَتْ لَهُ .
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ( ان کی والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا تو انہوں نے انہیں جواب دیا : قسم اللہ کی ، ابوطلحہ ! آپ جیسوں کا پیغام لوٹایا نہیں جا سکتا ، لیکن آپ ایک کافر شخص ہیں اور میں ایک مسلمان عورت ہوں ، میرے لیے حلال نہیں کہ میں آپ سے شادی کروں ، لیکن اگر آپ اسلام قبول کر لیں ، تو یہی آپ کا اسلام قبول کر لینا ہی میرا مہر ہو گا اس کے سوا مجھے کچھ اور نہیں چاہیئے ۱؎ تو وہ اسلام لے آئے اور یہی چیز ان کی مہر قرار پائی ۔ ثابت کہتے ہیں : میں نے کسی عورت کے متعلق کبھی نہیں سنا جس کی مہر ام سلیم رضی اللہ عنہا کی مہر اسلام سے بڑھ کر اور باعزت رہی ہو ۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے صحبت و قربت اختیار کی اور انہوں نے ان سے بچے جنے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (ان کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا تو انہوں نے انہیں جواب دیا: قسم اللہ کی، ابوطلحہ! آپ جیسوں کا پیغام لوٹایا نہیں جا سکتا، لیکن آپ ایک کافر شخص ہیں اور میں ایک مسلمان عورت ہوں، میرے لیے حلال نہیں کہ میں آپ سے شادی کروں، لیکن اگر آپ اسلام قبول کر لیں، تو یہی آپ کا اسلام قبول کر لینا ہی میرا مہر ہو گا اس کے سوا مجھے کچھ اور نہیں چاہیئے ۱؎ تو وہ اسلام لے آئے ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3343]