حدیث نمبر: 3326
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَمَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : " أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ بِتِلْكَ الرَّضْعَةِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُرِيدُ رَضَاعَةَ الْكَبِيرِ ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ : وَاللَّهِ مَا نُرَى الَّذِي أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ إِلَّا رُخْصَةً فِي رَضَاعَةِ سَالِمٍ وَحْدَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضْعَةِ وَلَا يَرَانَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` سبھی ازواج مطہرات ۱؎ نے اس بات سے انکار کیا کہ کوئی ان کے پاس اس رضاعت کا سہارا لے کر ( گھر کے اندر ) آئے ، مراد اس سے بڑے کی رضاعت ہے اور سب نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : قسم اللہ کی ! ہم سمجھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ بنت سہیل کو ( سالم کو دودھ پلانے کا ) جو حکم دیا ہے وہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سالم کی رضاعت کے سلسلہ میں خاص تھا ۔ قسم اللہ کی ! اس رضاعت کے ذریعہ کوئی شخص ہمارے پاس آ نہیں سکتا اور نہ ہمیں دیکھ سکتا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: عائشہ رضی الله عنہا کے علاوہ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3326
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «النکاح 10 (2061) مطولا، (تحفة الأشراف: 18377) (صحیح)»