سنن نسائي
كتاب النكاح— کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
بَابُ : الْقَدْرِ الَّذِي يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ باب: کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : كَتَبْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ، نَسْأَلُهُ عَنِ الرَّضَاعِ ؟ فَكَتَبَ , أَنَّ شُرَيْحًا حَدَّثَنَا , أَنَّ عَلِيًّا , وَابْنَ مَسْعُودٍ ، كانا يقولان : يحرم من الرضاع قليله وكثيره ، وكان في كتابه أن أبا الشعثاء المحاربي حَدَّثَنَا , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا تُحَرِّمُ الْخَطْفَةُ وَالْخَطْفَتَانِ " .
´قتادہ کہتے ہیں کہ` ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی کے پاس ( خط ) لکھ کر رضاعت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے ( جواب میں ) لکھا کہ مجھ سے شریح نے بیان کیا ہے کہ علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں کہتے تھے کہ دودھ تھوڑا پئے یا زیادہ رضاعت سے حرمت ( نکاح ) ثابت ہو جائے گی ، اور ان کی کتاب ( تحریر ) میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابوالشعثاء محاربی نے مجھ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” ایک بار یا دو بار اچک لینے ( یعنی ایک یا دو گھونٹ پی لینے ) سے نکاح کی حرمت قائم نہیں ہوتی “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مَصَّةٌ: (ن۔
س)
ایک بار پستان چوسنا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک یا دو چوس حرمت ثابت نہیں کرتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2063]
بلکہ جب تک پانچ مرتبہ (مذکورہ طریقے سے) دودھ پیے، حرمت رضا عت ثابت نہیں ہو گی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3312]