حدیث نمبر: 3313
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : كَتَبْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ، نَسْأَلُهُ عَنِ الرَّضَاعِ ؟ فَكَتَبَ , أَنَّ شُرَيْحًا حَدَّثَنَا , أَنَّ عَلِيًّا , وَابْنَ مَسْعُودٍ ، كانا يقولان : يحرم من الرضاع قليله وكثيره ، وكان في كتابه أن أبا الشعثاء المحاربي حَدَّثَنَا , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا تُحَرِّمُ الْخَطْفَةُ وَالْخَطْفَتَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قتادہ کہتے ہیں کہ` ہم نے ابراہیم بن یزید نخعی کے پاس ( خط ) لکھ کر رضاعت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے ( جواب میں ) لکھا کہ مجھ سے شریح نے بیان کیا ہے کہ علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں کہتے تھے کہ دودھ تھوڑا پئے یا زیادہ رضاعت سے حرمت ( نکاح ) ثابت ہو جائے گی ، اور ان کی کتاب ( تحریر ) میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابوالشعثاء محاربی نے مجھ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” ایک بار یا دو بار اچک لینے ( یعنی ایک یا دو گھونٹ پی لینے ) سے نکاح کی حرمت قائم نہیں ہوتی “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس لیے یہاں قول صحابہ پر نہیں قول رسول پر عمل ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10124، 16133) (صحیح الإسناد)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1450 | سنن ابي داود: 2063 | سنن ابن ماجه: 1941 | سنن نسائي: 3312

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1450 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک دو دفعہ دودھ چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3590]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مَصَّةٌ: (ن۔
س)
ایک بار پستان چوسنا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1450 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2063 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کیا پانچ گھونٹ سے کم دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہو گی؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو چوس حرمت ثابت نہیں کرتا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2063]
فوائد ومسائل:
بلکہ جب تک پانچ مرتبہ (مذکورہ طریقے سے) دودھ پیے، حرمت رضا عت ثابت نہیں ہو گی۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2063 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3312 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا (نکاح کو) حرام نہیں کرتا ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3312]
اردو حاشہ: احادیث میں مختلف الفاظ ہیں: [مَصَّةُ،إملاجة،خَطْفَة] وغیرہ۔ سب کا مفہوم ایک ہے‘ یعنی ایک دفعہ پستان منہ میں ڈال کر دودھ چوستے رہنا حتیٰ کہ پستان منہ سے نکال دیا جائے۔ بعض مسائل میں شریعت نے قلیل وکثیر میں فرق کیا ہے‘ جیسے ماء قلیل اور ماء کثیر‘ اسی طرح رضاعت کے مسئلے میں بھی قلیل وکثیر کا فرق ہے بایں طور کہ قلیل کو معتبر نہیں سمجھا گیا حتیٰ کہ دودھ پینا باضابطہ ہو۔ یہ طریق کار فطرت انسانیہ سے بھی مناسبت رکھتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3312 سے ماخوذ ہے۔