حدیث نمبر: 3311
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک بار اور دو بار چھاتی کا چوسنا حرمت کو ثابت نہیں کرتا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5281)، مسند احمد (4/4، 5) (صحیح، انظر ما بعدہ 3102)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1946

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1946 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´دودھ چھٹنے کے بعد پھر رضاعت ثابت نہیں ہے۔`
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " رضاعت معتبر نہیں ہے مگر وہ جو آنتوں کو پھاڑ دے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1946]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
’’آنتوں کو پھاڑنے‘‘ کا مطلب دودھ سے بچے کا سیر ہونا ہے۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رضاعت وہی معتبر ہے جس عمر میں بچے کی غذا ماں کا دودھ ہوا کرتی ہے۔
عام حالات میں بڑی عمر کے بچے کو دودھ پلانے سے رضاعت کا رشتہ قائم نہیں ہوگا۔
مزید دیکھیئے، حدیث: 1943 کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1946 سے ماخوذ ہے۔