سنن نسائي
كتاب النكاح— کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
بَابُ : تَحْرِيمِ بِنْتِ الأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ باب: رضاعی بھائی کی بیٹی (سے شادی) کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3307
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنْتُ حَمْزَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " , قَالَ شُعْبَةُ : هَذَا سَمِعَهُ قَتَادَةُ مِنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ( سے شادی ) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے “ ۱؎ ۔ شعبہ کہتے ہیں : اس روایت کو قتادہ نے جابر بن زید سے سنا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اور دودھ بھائی کی بیٹی سے شادی حرام ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5100 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5100. سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ سے عرض کی گئی: آپ سیدنا حمزہ ؓ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کرلیتے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، یعنی رضاعی بھتیجی ہے۔“ بشر بن عمر نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں قتادہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے جابر بن زید سے اسی طرح اس حدیث کو سنا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5100]
حدیث حاشیہ: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ثوبیہ کا دودھ پیا تھا جو ابولہب کی لونڈی تھی اس لئے حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپ کے دودھ بھائی قرار پائے۔
ایک دن ابوجہل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دی اور گالی بھی دی۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے یہ واقعہ حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ کو سنایا۔
وہ غصہ میں ابوجہل کے سامنے آئے اور کمان سے اس کا سر توڑ ڈالا اور کہا کہ لے میں خود مسلمان ہوتا ہوں تو کر لے کیا کرنا چاہتا ہے چنانچہ اسی دن حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے۔
یہ چھٹے سال نبوت کا واقعہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمر میں بڑے تھے، احد میں شہید ہوئے۔
ایک دن ابوجہل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دی اور گالی بھی دی۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لونڈی نے یہ واقعہ حضرت امیرحمزہ رضی اللہ عنہ کو سنایا۔
وہ غصہ میں ابوجہل کے سامنے آئے اور کمان سے اس کا سر توڑ ڈالا اور کہا کہ لے میں خود مسلمان ہوتا ہوں تو کر لے کیا کرنا چاہتا ہے چنانچہ اسی دن حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے۔
یہ چھٹے سال نبوت کا واقعہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمر میں بڑے تھے، احد میں شہید ہوئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5100 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5100 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5100. سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ سے عرض کی گئی: آپ سیدنا حمزہ ؓ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کرلیتے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، یعنی رضاعی بھتیجی ہے۔“ بشر بن عمر نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں قتادہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے جابر بن زید سے اسی طرح اس حدیث کو سنا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5100]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! رشتے ناتے کے لحاظ سے آپ کا رجحان قریش کی طرف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آپ کے پاس کچھ ہے جسے میں پسند کروں۔
‘‘ انھوں نے کہا: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی دختر سے شادی کر لیں جو آپ کے چچا کی بیٹی ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’وہ تو میرے لیے جائز نہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
‘‘ (صحيح مسلم، الرضاع، حديث: 3581 (1446) (2)
حضرت حمزہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو لہب کی لونڈی حضرت ثوبیہ کا دودھ پیا تھا، اس لیے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آپ کے رضاعی بھائی تھے اور نسب کے اعتبار سے آپ کے چچا تھے۔
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی ثوبیہ لونڈی کا دودھ پیا تھا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحيح البخاري، النكاح، حديث: 5101) (3)
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے نام کے متعلق مختلف اقوال منقول ہیں: امامہ، عمارہ، سلمیٰ، عائشہ، فاطمہ، امۃاللہ اور یعلی وغیرہ۔
بعض مؤرخین نے ام فضل بھی ذکر کیا ہے لیکن یہ اس کی کنیت ہے۔
(فتح الباري: 178/9)
(1)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! رشتے ناتے کے لحاظ سے آپ کا رجحان قریش کی طرف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آپ کے پاس کچھ ہے جسے میں پسند کروں۔
‘‘ انھوں نے کہا: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی دختر سے شادی کر لیں جو آپ کے چچا کی بیٹی ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’وہ تو میرے لیے جائز نہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
‘‘ (صحيح مسلم، الرضاع، حديث: 3581 (1446) (2)
حضرت حمزہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو لہب کی لونڈی حضرت ثوبیہ کا دودھ پیا تھا، اس لیے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آپ کے رضاعی بھائی تھے اور نسب کے اعتبار سے آپ کے چچا تھے۔
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی ثوبیہ لونڈی کا دودھ پیا تھا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
(صحيح البخاري، النكاح، حديث: 5101) (3)
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے نام کے متعلق مختلف اقوال منقول ہیں: امامہ، عمارہ، سلمیٰ، عائشہ، فاطمہ، امۃاللہ اور یعلی وغیرہ۔
بعض مؤرخین نے ام فضل بھی ذکر کیا ہے لیکن یہ اس کی کنیت ہے۔
(فتح الباري: 178/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5100 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2645 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2645. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی کے متعلق فرمایا: ’’اس سے نکاح کرنا میرے لیے جائز نہیں کیونکہ جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ دودھ کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ یہ لڑکی تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2645]
حدیث حاشیہ: رشتہ میں بھی رضاعت کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
تشریح: حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ آپ کے چچا تھے۔
ہر دو کی عمروں میں کوئی خاص فرق نہ تھا۔
اس لیے جس وقت آنحضرت ﷺ دودھ پیتے تھے حضرت حمزہ ؓ کے بھی دودھ پینے کا وہی زمانہ تھا اور دونوں حضرات نے ابولہب کی باندی ثوبیہ کا دودھ پیا تھا۔
حضرت حمزہ ؓ کی لڑکی جن کا نام امامہ یا عمارہ بتایا جاتا ہے، کے متعلق یہ حدیث آپ نے اسی بنیاد پر بیان کی تھی۔
قسطلانی نے کہا، ان میں سے چار رشتے مستثنیٰ ہیں جونسب سے حرام ہوتے ہیں، لیکن رضاع سے حرام نہیں ہوتے۔
ان کا ذکر کتاب النکاح میں آئے گا۔
إن شاءاللہ تعالیٰ۔
تشریح: حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ آپ کے چچا تھے۔
ہر دو کی عمروں میں کوئی خاص فرق نہ تھا۔
اس لیے جس وقت آنحضرت ﷺ دودھ پیتے تھے حضرت حمزہ ؓ کے بھی دودھ پینے کا وہی زمانہ تھا اور دونوں حضرات نے ابولہب کی باندی ثوبیہ کا دودھ پیا تھا۔
حضرت حمزہ ؓ کی لڑکی جن کا نام امامہ یا عمارہ بتایا جاتا ہے، کے متعلق یہ حدیث آپ نے اسی بنیاد پر بیان کی تھی۔
قسطلانی نے کہا، ان میں سے چار رشتے مستثنیٰ ہیں جونسب سے حرام ہوتے ہیں، لیکن رضاع سے حرام نہیں ہوتے۔
ان کا ذکر کتاب النکاح میں آئے گا۔
إن شاءاللہ تعالیٰ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2645 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2645 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2645. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی کے متعلق فرمایا: ’’اس سے نکاح کرنا میرے لیے جائز نہیں کیونکہ جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ دودھ کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ یہ لڑکی تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2645]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ ﷺ اور حضرت حمزہ ؓ نے بچپن میں ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ کا دودھ پیا تھا، اس لیے نسب کے اعتبار سے حضرت حمزہ ؓ آپ کے چچا تھے لیکن رضاعت کے لحاظ سے آپ کے بھائی تھے، اس لیے رضاعی بھتیجی سے نکاح جائز نہیں۔
(2)
واضح رہے کہ دودھ پلانے والی عورت اور اس کے محارم کا نکاح دودھ پینے والے سے جائز نہیں جیسا کہ نسب میں ماں اور اس کے محارم سے نکاح جائز نہیں۔
بچے کی طرف سے یہ عموم نہیں ہے کیونکہ اگر کسی عورت نے کسی بچے کو دودھ پلایا ہے تو بلاشبہ وہ اس کی ماں بن جاتی ہے لیکن بچے کے باپ کے لیے اس سے نکاح کرنا جائز ہے، نیز چار رشتے ایسے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں لیکن رضاعت کی وجہ سے حرام نہیں ہوتے جن کی تفصیل ہم کتاب النکاح میں ذکر کریں گے۔
(3)
امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جو واقعات شہرت پا جائیں، ان سے حکم ثابت کیا جا سکتا ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے دودھ کے متعلق خبر دی کہ میں نے اور حضرت حمزہ ؓ نے ثوبیہ کا دودھ پیا ہے۔
اس کی بنیاد بھی لوگوں میں شہرت تھی۔
واللہ أعلم
(1)
رسول اللہ ﷺ اور حضرت حمزہ ؓ نے بچپن میں ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ کا دودھ پیا تھا، اس لیے نسب کے اعتبار سے حضرت حمزہ ؓ آپ کے چچا تھے لیکن رضاعت کے لحاظ سے آپ کے بھائی تھے، اس لیے رضاعی بھتیجی سے نکاح جائز نہیں۔
(2)
واضح رہے کہ دودھ پلانے والی عورت اور اس کے محارم کا نکاح دودھ پینے والے سے جائز نہیں جیسا کہ نسب میں ماں اور اس کے محارم سے نکاح جائز نہیں۔
بچے کی طرف سے یہ عموم نہیں ہے کیونکہ اگر کسی عورت نے کسی بچے کو دودھ پلایا ہے تو بلاشبہ وہ اس کی ماں بن جاتی ہے لیکن بچے کے باپ کے لیے اس سے نکاح کرنا جائز ہے، نیز چار رشتے ایسے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں لیکن رضاعت کی وجہ سے حرام نہیں ہوتے جن کی تفصیل ہم کتاب النکاح میں ذکر کریں گے۔
(3)
امام بخاری ؒ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جو واقعات شہرت پا جائیں، ان سے حکم ثابت کیا جا سکتا ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے دودھ کے متعلق خبر دی کہ میں نے اور حضرت حمزہ ؓ نے ثوبیہ کا دودھ پیا ہے۔
اس کی بنیاد بھی لوگوں میں شہرت تھی۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2645 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3308 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´رضاعی بھائی کی بیٹی (سے شادی) کی حرمت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر لینے کی ترغیب دی گئی، تو آپ نے فرمایا: ” وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت (دودھ پینے) سے ہر وہ رشتہ، ناطہٰ حرام ہو جاتا ہے جو رشتہ، ناطہٰ نسب سے حرام ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3308]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر لینے کی ترغیب دی گئی، تو آپ نے فرمایا: ” وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت (دودھ پینے) سے ہر وہ رشتہ، ناطہٰ حرام ہو جاتا ہے جو رشتہ، ناطہٰ نسب سے حرام ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3308]
اردو حاشہ: بھتیجی محرمات میں داخل ہے‘ خواہ حقیقی بھائی کی بیٹی ہو یا رضاعی بھائی کی۔ بہن‘ بھائی اور ان کی اولاد سے نکاح قطعاً حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3308 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1938 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رضاعت (دودھ پلانے) سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1938]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1938]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سید الشہداء حضرت حمزہ رسول اللہ ﷺ کے سگے چچا تھے، اس لیے ان کی بیٹی سے نکاح جائز ہونا چاہیے تھا۔
یہی سوچ کر حضرت علی نے یہ تجویز پیش فرما دی لیکن رسول اللہ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ نسبی طور پر یہ رشتہ ممکن تھا لیکن رضاعی طور پر حرام ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں۔
(2)
حضرت حمزہ کو ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔
اسی نے چند دن رسول اللہ ﷺ کو بھی دودھ پلایا تھا۔ (لمعات، شرح مشکاۃ، کتاب النکاح، باب المحرمات)
اس طرح حضرت حمزہ نبی ﷺ کے رضاعی بھائی بن گئے اور ان کی بیٹی آپﷺ کی رضاعی بھتیجی ہوئی۔
(3)
اس خاتون کا نام حضرت فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا تھا۔ (إنجاح الحاجة حاشیة سنن ابن ماجة از عبدالغنی دھلوی)
فوائد و مسائل:
(1)
سید الشہداء حضرت حمزہ رسول اللہ ﷺ کے سگے چچا تھے، اس لیے ان کی بیٹی سے نکاح جائز ہونا چاہیے تھا۔
یہی سوچ کر حضرت علی نے یہ تجویز پیش فرما دی لیکن رسول اللہ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ نسبی طور پر یہ رشتہ ممکن تھا لیکن رضاعی طور پر حرام ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں۔
(2)
حضرت حمزہ کو ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔
اسی نے چند دن رسول اللہ ﷺ کو بھی دودھ پلایا تھا۔ (لمعات، شرح مشکاۃ، کتاب النکاح، باب المحرمات)
اس طرح حضرت حمزہ نبی ﷺ کے رضاعی بھائی بن گئے اور ان کی بیٹی آپﷺ کی رضاعی بھتیجی ہوئی۔
(3)
اس خاتون کا نام حضرت فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا تھا۔ (إنجاح الحاجة حاشیة سنن ابن ماجة از عبدالغنی دھلوی)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1938 سے ماخوذ ہے۔