مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3306
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا ، قَالَ : " وَعِنْدَكَ أَحَدٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، بِنْتُ حَمْزَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي ، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور ( ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں ) آپ ہمیں چھوڑ رہے ( اور نظر انداز فرما رہے ) ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کوئی ( شادی کے لائق ) ہے ؟ “ میں نے کہا : ہاں ! حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے ، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1446 | سنن ترمذي: 1146

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´رضاعی بھائی کی بیٹی (سے شادی) کی حرمت کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور (ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں) آپ ہمیں چھوڑ رہے (اور نظر انداز فرما رہے) ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی (شادی کے لائق) ہے؟ میں نے کہا: ہاں! حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی ک [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3306]
اردو حاشہ: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی نسبی لحاظ سے تو رسول اللہﷺ کی چچا زاد بہن تھی اور اس سے آپ کا نکاح جائز تھا‘ اسی لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے نکاح کی پیش کش کی لیکن چونکہ وہ آپ کی رضاعی بھتیجی بھی تھی کہ رسول اللہﷺ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو ثویبہ نے بھی دودھ پلایا تھا۔ اس لحاظ سے وہ بھی آپ کے رضاعی بھائی تھے‘ لہٰذا ان کی بیٹی سے نکاح جائز نہیں تھا کیونکہ رضاعی بھتیجی بھی نسبتی بھتیجی کی طرح ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3306 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1446 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا وجہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش سے انتخاب کرتے ہیں اور ہمیں (بنو ہاشم کو) نظر انداز کر دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے ہاں کوئی رشتہ ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3581]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
تَنَوَّقُ: اصل میں تَتَنَوَّقُ ہے جو نیقہ سے ماخوذ ہے۔
اعلی اور عمدہ کو کہتے ہیں یہاں انتخاب کرنا پسند کرنا ہے۔
فوائد ومسائل: حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں دو چار سال بڑے تھے۔
اور انہیں ابولہب کی لونڈی نے دودھ پلایا تھا اور اس لونڈی ثوبیہ نامی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دودھ پلایا تھا ابولہب نے ثوبیہ کو اس وقت آزاد کیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ جا چکے تھے۔
(طبقات ابن سعد ج1ص 108)
اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس بیٹی کے نام میں بہت اختلاف ہے۔
مشہور نام عمارہ ہے جو مکہ میں اپنی والدہ کے پاس تھیں اور عمرۃ القضا سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ آ گئی تھی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضانت میں دے دیا تھا۔
اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کسی صاحب علم وفضل کو اپنے خاندان اور قبیلہ کی بچی کے نکاح کی پیشکش کی جا سکتی ہے اور اس سلسلہ میں دوسری روایت کی روشنی میں اس کے حسن وجمال کا تذکرہ بھی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ حسن وجمال بھی باعث کشش ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1446 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1146 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔`
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام کر دئیے ہیں جو نسب سے حرام ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1146]
اردو حاشہ:
وضاخت: 1؎:
یہ سات رشتے ہیں (1)
مائیں (2)
بیٹیاں (3)
بہنیں (4)پھوپھیاں (5)خالائیں (6)بھتیجیاں (7)بھانجیاں، ماں میں دادی نانی داخل ہے اوربیٹی میں پوتی نواسی داخل، اوربہنیں تین طرح کی ہیں: سگی، سوتیلی اوراخیافی، اسی طرح بھتیجیاں اور بھانجیاں اگرچہ نیچے درجہ کی ہوں اور پھوپھیاں سگی ہوں خواہ سوتیلی خواہ اخیافی، اسی طرح باپ دادا اورماں اورنانی کی پھوپھیاں سب حرام ہیں اورخالائیں علی ہذا القیاس۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1146 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔