سنن نسائي
كتاب النكاح— کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
بَابُ : صَلاَةِ الْمَرْأَةِ إِذَا خُطِبَتْ وَاسْتِخَارَتِهَا رَبَّهَا باب: پیغام نکاح ملنے پر عورت کا نماز استخارہ پڑھ کر رب سے بھلائی چاہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ : " اذْكُرْهَا عَلَيَّ " , قَالَ زَيْدٌ : فَانْطَلَقْتُ ، فَقُلْتُ : يَا زَيْنَبُ أَبْشِرِي أَرْسَلَنِي إِلَيْكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ ، فَقَالَتْ : مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَبِّي ، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ بِغَيْرِ أَمْرٍ " .
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں میرے لیے رشتہ کا پیغام دو ۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گیا اور میں نے کہا : زینب خوش ہو جاؤ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے ۔ انہوں نے کہا : میں کچھ نہیں کرنے کی جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں ( یہ کہہ کر ) وہ اپنے مصلی پر ( صلاۃ استخارہ پڑھنے ) کھڑی ہو گئیں ، ( ادھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ان سے آسمان پر ہی کر دیا ) ، اور قرآن نازل ہو گیا : «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ( اس آیت کے نزول کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کسی حکم و اجازت ( یعنی رسمی ایجاب و قبول کے بغیر تشریف لائے ، اور ) ان سے خلوت میں ملے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہا کو ان کے پاس بھیجا کہ جا کر انہیں میرے لیے رشتہ کا پیغام دو۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گیا اور میں نے کہا: زینب خوش ہو جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ نہیں کرنے کی جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں (یہ کہہ کر)۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3253]
(2) "مشورہ کرلوں" اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ آپﷺ کے عقد میں آنا پسند نہ فرماتی تھیں۔ وہ تو پہلے نکاح سے قبل بھی آپ سے نکاح کی خواہش مند تھیں۔ ان کا استخارہ تو پہلے نکاح کی ناکامی کا نفسیاتی اثر تھا یا اس بنا پر متردد تھیں کہ رسول اللہﷺ کے حقوق صحیح طور پر ادا کرسکیں گی یا نہیں؟
(3) "قرآن مجید کا حکم اتر آیا" اور وہ آیت ہے جس میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کا نام نامی صراحتاً ذکر ہے۔ ارشاد الہٰی ہے: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ (الأحزاب: 33:37) اس فضیلت میں کوئی دوسرے صحابی ان کے ساتھ شریک نہیں۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْه وَأَرْضَاه۔
(4) استخارہ کرنا مستحب ہے اگرچہ کام ظاہراً بہتر ہی معلوم رہا ہو۔