حدیث نمبر: 3248
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا نَظَرْتَ إِلَيْهَا ، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ , أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَ ، وَالصَّوَابُ أَبُو هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے ؟ “ ( دیکھ لیے ہوتے تو اچھا ہوتا ) کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے ( بعد میں اس کی وجہ سے کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو ) ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہی حدیث مجھے ایک دوسری جگہ «عن یزید بن کیسان عن ابی حازم عن ابی ہریرہ» کے بجائے «عن یزید بن کیسان أن جابر بن عبداللہ حدث» کے ساتھ ملی ۔ لیکن صحیح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں انہوں نے اپنی شادی کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ لیکن آپ نے اس عورت کے تعلق سے ایک بات انہیں بے پوچھے بتائی تو جب کسی عورت کے متعلق نکاح کی غرض سے کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو اس شخص کو اس عورت کے متعلق جو کچھ جانے بدرجہ اولیٰ بتا دینا چاہیئے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3248
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3236 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´شادی کی غرض سے مشورہ طلب کرنے والے کو عورت کے متعلق بتا دینا کیسا ہے؟`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟ (دیکھ لیے ہوتے تو اچھا ہوتا) کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے (بعد میں اس کی وجہ سے کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو) ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی حدیث مجھے ایک دوسری جگہ «عن یزید بن کیسان عن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3248]
اردو حاشہ: خرابی سے مراد یا تو بھینگا ہونا ہے یا چھوٹا ہونا یا پھر نیلگوں ہونا۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3248 سے ماخوذ ہے۔