سنن نسائي
كتاب النكاح— کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
بَابُ : أَىُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ باب: زیادہ اچھی اور بہترین عورتیں کون سی ہیں؟
حدیث نمبر: 3233
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا ، وَمَالِهَا ، بِمَا يَكْرَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا : عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے ۱؎ ، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو ( خوش اسلوبی سے ) اسے بجا لائے ، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اپنے صاف ستھرے لباس اور خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کرے۔ ۲؎: جب شوہر اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو فوراً تیار ہو جائے اور اپنے مال میں کھلے دل سے اسے تصرف کی اجازت دے رکھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´زیادہ اچھی اور بہترین عورتیں کون سی ہیں؟`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا: ” وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے ۱؎، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو (خوش اسلوبی سے) اسے بجا لائے، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے ۲؎۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3233]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا: ” وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے ۱؎، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو (خوش اسلوبی سے) اسے بجا لائے، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے ۲؎۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3233]
اردو حاشہ: خاوند بیوی کی موافقت کے بغیر معاشرہ پر سکون نہیں رہ سکتا۔ اگر دونوں کی مساوی حیثیت ہو تو موافقت کا امکان بہت کم ہے، اس لیے بیوی کو خاوند کے تابع کردیا گیا کیونکہ مرد بلکہ مذکر کی فضیلت فطرتاً اور عملاً مسلم ہے، لہٰذا بہترین بیوی وہ ہے جو اپنے خاوند کے تابع فرمان رہے تاکہ یہ معاشرہ جنت نظیربن سکے۔ جس معاشرے میں مرد و زن کی حیثیت مساوی ہے، وہاں معاشرتی بے سکونی اور ازدواجی ابتری عام ہے۔ خاوند، بیوی اور والدین میں محبت واحترام مفقود ہے جو امن واطمینان کی بنیاد ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3233 سے ماخوذ ہے۔