سنن نسائي
كتاب النكاح— کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
بَابُ : مَعُونَةِ اللَّهِ النَّاكِحَ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ باب: عفت و پاکدامنی کے ارادہ سے شادی کرنے والے کا اللہ تعالیٰ معاون و مددگار ہے۔
حدیث نمبر: 3220
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُمْ : الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ ، وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین ( طرح کے لوگ ) ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم و ضروری کر لیا ہے : ( ایک ) وہ مکاتب ۱؎ جو مقررہ رقم ادا کر کے آزادی حاصل کر لینے کے لیے کوشاں ہو ۔ ( دوسرا ) ایسا نکاح کرنے والا جو شادی کر کے عفت و پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہو ( تیسرا ) وہ مجاہد جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلا ہو “ ۔
وضاحت:
۱؎: مکاتب ایسا غلام ہے جو اپنی ذات کی آزادی کی خاطر مالک کیلئے کچھ قیمت متعین کر دے، قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ آزاد ہو جائے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3122 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شام کے وقت جہاد میں جانے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے، (ایک) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مکاتب ۱؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہو جانے کی کوشش کر رہا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3122]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے، (ایک) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مکاتب ۱؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہو جانے کی کوشش کر رہا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3122]
اردو حاشہ:: (1) ”ضروری ہے“ اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کی مدد نہ کرے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ تو کمال رحمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی اور اختیار سے کچھ باتوں کو اپنے لیے ضروری قرار دے لیا ہے۔
(2) مالک کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ اپنے غلام میں کمائی کی صلاحیت دیکھے تو رقم طے کر کے اس سے آزادی کا معاہدہ کرے اور پھر اسے کمائی کے لیے کھلا چھوڑ دے۔ جب وہ مقرر معاہدے کے مطابق رقم ادا کردے تو اسے آزاد کردے، خصوصاً جب کہ غلام خود ایسے معاہدے کی درخواست کرے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا حکم دیا ﴿وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ﴾ (النور:24:33) ”اور تمہارے جو لونڈی غلام مکاتب کرنا (آزادی کی تحریر لکھنا) چاہیں تو تم انہیں لکھ کر دے دو۔“
(2) مالک کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ اپنے غلام میں کمائی کی صلاحیت دیکھے تو رقم طے کر کے اس سے آزادی کا معاہدہ کرے اور پھر اسے کمائی کے لیے کھلا چھوڑ دے۔ جب وہ مقرر معاہدے کے مطابق رقم ادا کردے تو اسے آزاد کردے، خصوصاً جب کہ غلام خود ایسے معاہدے کی درخواست کرے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا حکم دیا ﴿وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ﴾ (النور:24:33) ”اور تمہارے جو لونڈی غلام مکاتب کرنا (آزادی کی تحریر لکھنا) چاہیں تو تم انہیں لکھ کر دے دو۔“
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3122 سے ماخوذ ہے۔