حدیث نمبر: 3216
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَتَادَةُ أَثْبَتُ وَأَحْفَظُ مِنْ أَشْعَثَ , وَحَدِيثُ أَشْعَثَ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد ( غیر شادی شدہ ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے ۱؎ واللہ أعلم ۔

وضاحت:
۱؎: وجہ اس کی یہ ہے کہ اشعث کی روایت میں حسن اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان ایک واسطہ سعد بن ہشام کا ہے جب کہ قتادہ کی روایت میں حسن اور صحابی رسول سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کے درمیان کوئی دوسرا واسطہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب النكاح / حدیث: 3216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/النکاح 2 (1082)، سنن ابن ماجہ/النکاح 2 (1849)، (تحفة الأشراف: 4590)، مسند احمد (5/17) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1849

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مجرد (عورتوں سے الگ تھلگ) رہنے کی ممانعت کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد (غیر شادی شدہ) رہ کر زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: قتادہ اشعث سے زیادہ ثقہ اور مضبوط حافظہ والے تھے لیکن اشعث کی حدیث صحت سے زیادہ قریب لگتی ہے ۱؎ واللہ أعلم۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3216]
اردو حاشہ: حضرت قتادہ نے یہ روایت عن الحسن عن سمرۃ بن جندب کی سند سے بیان کی ہے، یعنی اسے سمرہ کی حدیث بنایا ہے۔ لیکن یہ ان کی خطا ہے جو انتہائی ثقہ سے بھی ممکن ہے۔ جبکہ اشعث نے صحیح سند بیان کی ہے۔ گویا یہ حدیث مسند عائشہ ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3216 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1849 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کنوارا رہنا منع ہے۔`
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجرد والی زندگی (بے شادی شدہ رہنے) سے منع فرمایا۔ زید بن اخزم نے یہ اضافہ کیا ہے: اور قتادہ نے یہ آیت پڑھی، «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» (سورة الرعد: 38) ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور اولاد بنائیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1849]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
بے نکاح رہنے کو نیکی سمجھنا غلط ہے خواہ یہ تصوف کے نام پر ہو یا قلندری کے نام پر یا کسی اور نام سے۔
نکاح تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔
انبیائے کرام نوری مخلوق نہیں بلکہ اشرف المخلوقات انسان ہیں، اس لیے وہ نکاح بھی کرتے تھے اور ان کی اولاد بھی ہوتی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1849 سے ماخوذ ہے۔