حدیث نمبر: 3187
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ حَدِّثْنِي ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ " , قُلْتُ : وَكَيْفَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صعصہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ` میری ملاقات ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو میں نے ان سے کہا : مجھ سے آپ کوئی حدیث بیان کیجئے ، تو انہوں نے کہا : اچھا ( پھر کہا : ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں اپنا ہر مال جوڑا جوڑا کر کے خرچ کرتا ہے تو جنت کے سبھی دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر ایک کے پاس جو کچھ ہو گا انہیں دینے کے لیے اسے بلائیں گے “ ، ( صعصعہ کہتے ہیں ) میں نے کہا : یہ کیسے ہو گا ؟ تو انہوں نے کہا : اگر اونٹ رکھتا ہو تو دو اونٹ دیئے ہوں ، اور گائیں رکھتا ہو تو دو گائیں دی ہوں ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی کچھ وضاحت فرمائیے کہ ہر قسم کے مال سے جوڑا دینے کا کیا مطلب ہے؟
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3187
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11924)، مسند احمد (5/151، 159153، 164)، سنن الدارمی/الجہاد 13 (2447) (صحیح)»