سنن نسائي
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
بَابُ : غَزْوَةِ التُّرْكِ وَالْحَبَشَةِ باب: ترک اور حبشہ سے جنگ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3179
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ ، وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے ، بالوں کے لباس پہنیں گے ۱؎ اور بالوں میں چلیں گے “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان کے لباس بالوں سے بنے ہوئے ہوں گے یا ان کے لباس ایسے گھنے اور لمبے ہوں گے کہ لباس کی طرح لٹک رہے ہوں گے۔ ۲؎: یعنی ان کی جوتیوں پر بال ہوں گے یا ان کی جوتیاں بالوں سے تیار کی گئی ہوں گی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´ترک اور حبشہ سے جنگ کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے، بالوں کے لباس پہنیں گے ۱؎ اور بالوں میں چلیں گے “ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3179]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے، بالوں کے لباس پہنیں گے ۱؎ اور بالوں میں چلیں گے “ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3179]
اردو حاشہ: (1) ’’چہرے‘‘ یعنی ان کے چہرے سخت اورموٹے ہوں گے گویا کہ لوہے پر چمڑا چڑھا دیا گیا ہے۔ (2) چونکہ ترک سرد علاقوں کے رہنے والے ہیں‘ لہٰذا انہیں بالوں والے کپڑے اور جوتے پہننے پڑتے ہیں۔ یہ ان کی مجبوری ہے۔ بعض حضرات نے اس سے یہ مراد لیا ہے کہ ان کے جسم پر لمبے لمبے بال ہوں گے جو ان کے لیے لباس اور جوتوں کے قائم مقام ہوجائیں گے لیکن یہ معنی درست نہیں کیونکہ یہ مشاہدے کے خلاف ہے۔ ترکوں کے جسموں پر بہت کم بال ہوتے ہیں بلکہ سرد علاقوں کے رہنے والے سب لوگ کم بالوں والے ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3179 سے ماخوذ ہے۔