سنن نسائي
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
بَابُ : مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنَ الأَلَمِ باب: شہید کو پہنچنے والی تکلیف کا بیان۔
حدیث نمبر: 3163
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ مَسَّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمُ الْقَرْصَةَ يُقْرَصُهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے ( پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے ) “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´شہید کو پہنچنے والی تکلیف کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے (پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3163]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے (پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3163]
اردو حاشہ: شہادت کی خوشی اور جذبئہ ایمان کی شدت قتل کی تکلیف کا احساس ختم کردیتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3163 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2802 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شہید کو قتل سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تمہیں چیونٹی کاٹنے سے ہوتی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2802]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شہید کو قتل سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تمہیں چیونٹی کاٹنے سے ہوتی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2802]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
اور (الموسوعة الحديثية کے محققین نے اس کی سند کو قوی قراردیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 235/334/3)
والصحيحة للالباني، رقم: 960)
بہرحال یہ بھی شہید پر اللہ کا انعام ہےکہ اس پر جان نکلنے کا عمل آسان کردیا جاتا ہےاور اس کے لیے یہ تکلیف ناقابل برداشت نہیں ہوتی۔
فائدہ: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
اور (الموسوعة الحديثية کے محققین نے اس کی سند کو قوی قراردیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 235/334/3)
والصحيحة للالباني، رقم: 960)
بہرحال یہ بھی شہید پر اللہ کا انعام ہےکہ اس پر جان نکلنے کا عمل آسان کردیا جاتا ہےاور اس کے لیے یہ تکلیف ناقابل برداشت نہیں ہوتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2802 سے ماخوذ ہے۔