سنن نسائي
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
بَابُ : مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَعَلَيْهِ دَيْنٌ باب: مقروض شخص کا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا ، مُحْتَسِبًا ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي سَيِّئَاتِي ، قَالَ : " نَعَمْ " ، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : هَا أَنَا ذَا ، قَالَ : " مَا قُلْتَ ؟ " قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا ، مُحْتَسِبًا ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي سَيِّئَاتِي ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِلَّا الدَّيْنَ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًا " .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ بتائیے اگر میں اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے جنگ کروں ، اور جم کر لڑوں ، آگے بڑھتا رہوں پیٹھ دکھا کر نہ بھاگوں ، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، پھر ایک لمحہ خاموشی کے بعد آپ نے پوچھا : ” سائل اب کہاں ہے “ ؟ وہ آدمی بولا : ہاں ( جی ) میں حاضر ہوں ، ( یا رسول اللہ ! ) آپ نے فرمایا : ” تم نے کیا کہا تھا ؟ “ اس نے کہا : آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں جم کر اجر و ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے ، پیٹھ نہ دکھاتے ہوئے لڑتا ہوا مارا جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ بخش دے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ( بخش دے گا ) سوائے قرض کے ، جبرائیل علیہ السلام نے آ کر ابھی ابھی مجھے چپکے سے یہی بتایا ہے “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر میں اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے جنگ کروں، اور جم کر لڑوں، آگے بڑھتا رہوں پیٹھ دکھا کر نہ بھاگوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں “، پھر ایک لمحہ خاموشی کے بعد آپ نے پوچھا: ” سائل اب کہاں ہے “؟ وہ آدمی بولا: ہاں (جی) میں حاضر ہوں،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3157]