حدیث نمبر: 3152
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ابنا كعب بن مالك ، أن سلمة بن الأكوع ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ ، قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ ، فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَرْتَجِزَ بِكَ ؟ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اعْلَمْ مَا تَقُولُ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقْتَ ، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ، فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَخِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ ، يَقُولُونَ : رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ ، مِثْلَ ذَلِكَ , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ حِينَ قُلْتُ : إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا ، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا ، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی ، اور اسے ہلاک کر دیا ۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑ گئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۱؎ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے اپنے سامنے رجز یہ کلام ( یعنی جوش و خروش والا کلام ) پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خوب سمجھ بوجھ کر کہنا ۲؎ میں نے کہا : قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ـ نہ ہم صدقہ و خیرات کرتے ، نہ نمازیں پڑھتے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے سچی بات کہی ہے “ ۔ ( دوسرے رجزیہ شعر کا ترجمہ ) : اے اللہ ہم سب پر سکینت ( اطمینان قلب ) نازل فرما - اور جب میدان جنگ میں دشمن سے ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ ۔ مشرکین نے ہم پر ظلم و زیادتی کی ہے ( تو ہماری ان کے مقابلے میں مدد فرما ) ۔ جب میں اپنا رجزیہ کلام پڑھ چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ رجزیہ ( اشعار ) کس نے کہے ہیں ؟ “ میں نے کہا : میرے بھائی نے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ ان پر رحم فرمائے “ ( بہت اچھے رجزیہ اشعار کہے ہیں ) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! لوگ تو ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے بچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ شخص خود اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۔ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ لڑتا ہوا مجاہد بن کر مرا ہے “ ۱؎ ۔ ابن شہاب زہری ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں : میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے باپ سے یہ حدیث اسی طرح بیان کیا سوائے اس ذرا سے فرق کے کہ جب میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ ان کی نماز پڑھنے سے خوف کھا رہے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ غلط کہتے ہیں ( بدگمانی نہیں کرنی چاہیئے ) وہ جہاد کرتا ہوا بحیثیت ایک مجاہد کے مرا ہے “ ، آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ” اسے دو اجر ملیں گے “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی صحیح موت مرا ہے یا حرام موت کچھ پتہ نہیں۔ ۲؎: یعنی دیکھنا کوئی بات غیر مناسب نہ نکل جائے۔ ۳؎: یہ اور بات ہے کہ دشمن پر حملہ کرتے ہوئے تلوار اتفاقاً خود اسی کو لگ گئی لیکن یہ خودکشی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3152
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجہاد 43 (1802)، سنن ابی داود/الجہاد 40 (2538)، (تحفة الأشراف: 4532)، مسند احمد (4/46) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1802 | سنن ابي داود: 2538

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جہاد کرتے ہوئے خود اپنی ہی تلوار سے ہلاک ہو جانے کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی، اور اسے ہلاک کر دیا۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑ گئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۱؎ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3152]
اردو حاشہ: جس شخص کی نیت کافروں سے جہاد کرنے کی ہو اور وہ دوران جہاد میں مارا جائے‘ خواہ دوشمن کے ہاتھوں یا اپنے ساتھیوں کی غلطی سے اپنے ہاتھوں‘ وہ شہید ہی متصور ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نیت کو دیکھتا ہے نہ کہ ظاہری اعمال کو۔ حضرت سلمہb کے بھائی اگرچہ اپنے ہتھیار ہی سے مارے گئے مگر ان کی نیت خود کشی کی نہیں تھی‘ لہٰذا ان کے لیے دہرا اجر ہے۔ جہاد کا بھی اور شہادت کا بھی۔ رَضِیَ اللّٰـہٰ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3152 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1802 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب خیبر کا دن تھا، تو میرے بھائی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر بڑی شدید جنگ لڑی اور اس کی تلوار پلٹ کر اسے لگی اور اسے قتل کر ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اس سلسلہ میں نکتہ چینی کی اور اس کی شہادت میں شک کیا، یہ آدمی اپنے ہی اسلحہ سے فوت ہوا ہے اور اس کے بعض معاملہ میں (شہادت میں) شک کیا، حضرت سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4669]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (1)
عامر بن اکوع، ایک لحاظ سے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں، تو دوسرے لحاظ سے ان کے اخیافی بھائی ہیں، کہ جاہلیت کے رواج کے مطابق، اکوع نے عامر کی والدہ کو جو ان کے باپ کی بیوی ہے، لیکن اس کی ماں نہیں ہے، اپنے گھر ڈال لیا تھا، تکملہ ج (3)
ص (225)
۔
(2)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر نشانہ خطا ہو کر اپنے آپ کو لگ جائے اور انسان اس سے فوت ہوجائے، تو وہ خود کشی شمار نہیں ہوگا، یہ اشعاری ہی آپ نے عامر سے سنے تھے، اب سلمہ رضی اللہ عنہ پڑھے، اس لیے آپ نے پوچھا، یہ رجزیہ کلام کس کا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1802 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2538 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´اپنے ہی ہتھیار سے زخمی ہو کر مر جانے والے شخص کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کر دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مر گیا ہو (وہ کیسے شہید ہو سکتا ہے؟)، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے۔‏‏‏‏ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: پھر میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2538]
فوائد ومسائل:
اس مجاہد کے لئے دوہرے اجر کی خوشخبری ممکن ہے۔
جہاد اور شہادت کی بنا پر ہو۔
واللہ اعلم۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2538 سے ماخوذ ہے۔