سنن نسائي
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
بَابُ : ثَوَابِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں اونٹنی کا دودھ اتارنے کے لیے ایک بار چھاتی پکڑنے اور چھوڑنے کے درمیان کے وقفہ تک بھی لڑنے والے کا ثواب۔
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَجَّاجًّا ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فَوَاقَ نَاقَةٍ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا ، ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ ، فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً ، فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ ، وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ " .
´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو ( مسلمان ) شخص اونٹنی دوہنے کے وقت مٹھی بند کرنے اور کھولنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر بھی ( یعنی ذرا سی دیر کے لیے ) اللہ کے راستے میں جہاد کرے ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ اور جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنی شہادت کی دعا کرے ، پھر وہ مر جائے یا قتل کر دیا جائے تو ( دونوں ہی صورتوں میں ) اسے شہید کا اجر ملے گا ، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہو جائے یا کسی مصیبت میں مبتلا کر دیا جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ ( زخمی ہونے کے وقت ) جیسا کچھ تھا ، اس سے بھی زیادہ گہرا و نمایاں ہو گا ، رنگ زعفران کی طرح اور ( اس کا زخم بدنما و بدبودار نہ ہو گا بلکہ اس کی ) خوشبو مشک کی ہو گی ، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اس پر شہداء کی مہر ہو گی “ ۱؎ ۔ ۱؎ : یعنی اس کا شمار شہیدوں میں ہو گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” جو (مسلمان) شخص اونٹنی دوہنے کے وقت مٹھی بند کرنے اور کھولنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر بھی (یعنی ذرا سی دیر کے لیے) اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ اور جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنی شہادت کی دعا کرے، پھر وہ مر جائے یا قتل کر دیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3143]
(2) ”قیامت کے دن“ کوئی شخص جس حالت میں فوت ہو وہ اسی حال میں اٹھایا جائے گا۔ اچھی موت والوں کے لیے یہ چیز فضیلت کا باعث ہوگی، مثلا: شہید، محرم، نمازی وغیرہ۔
(3) ”شہداء والی مہر“ خواہ اس زخم سے فوت ہویا کسی اور بنا پر، مگر اس زخم کا نشان اس میں باقی رہے۔ زخم چونکہ موت کا سبب بنتا ہے، لہٰذا جہاد میں زخمی ہونے والا شہید نہیں تو شہداء کا ساتھی ضرور ہوگا۔ ممکن ہے زخم کے نشان ہی کو ”شہداء کی مہر“ کہا گیا ہو یا پھر کوئی خصوصی نشانات لگائے جائیں گے۔ واللہ أعلم۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی دوہنے والے کے دو بار چھاتی پکڑنے کے درمیان کے مختصر عرصہ کے بقدر بھی جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہو گیا، یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لیے شہید کا اجر ہے، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا ۱؎ گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہو گی اور جسے اللہ کے را۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2541]
1۔
اونٹنی ایک بار دوہنے کے بعد چند منٹ کے لئے وقفہ دیاجا تا ہے۔
اور پھردوبارہ دوہتے ہیں۔
اس درمیانی وقفے کو (فواق) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
2۔
اخلاص نیت کی وجہ سے انسان بہت بڑے درجات حاصل کرلیتا ہے۔
خواہ بالفعل عمل کر کے اس مقام تک نہ بھی پہنچ سکے۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا: ” جو مسلمان شخص اللہ کے راستے میں اونٹنی کا دودھ دوھنے کے درمیانی وقفہ کے برابر لڑا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2792]
فوائد و مسائل:
(1)
اونٹنی کا دودھ ایک بار دوہنے کے بعد تھوڑاسا وقفہ دیا جاتا ہے پھر باقی دودھ دوہا جاتا ہے۔
اس معمولی سے درمیانی وقفے کو فواق کہا جاتا ہے۔
(2)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے جہاد کرنے سے جنت حاصل ہوجاتی ہے چاہے بالکل تھوڑی سی دیر جہاد میں شرکت کی ہو۔
(3)
جنت میں داخل ہونے کے لیے اسلام شرط ہے۔