سنن نسائي
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
بَابُ : دَرَجَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے درجات و مراتب۔
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ , " مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " ، قَالَ : فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفَعَلَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " ، قَالَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوسعید ! جو شخص راضی ہو گیا اللہ کے رب ۱؎ ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کر لیا ۲؎ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ۳؎ کا اقرار کر لیا ، تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی ۴؎ ، ( راوی کہتے ہیں ) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے ۔ ( چنانچہ ) عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے ، تو آپ نے دہرا دیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن جنت میں بندے کو سو درجوں کی بلندی تک پہنچانے کے لیے ایک دوسری عبادت بھی ہے ( اور درجے بھی کیسے ؟ ) ایک درجہ کا فاصلہ دوسرے درجے سے اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے ۔ انہوں نے کہا : یہ دوسری عبادت کیا ہے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ( یہ دوسری عبادت ) اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابوسعید! جو شخص راضی ہو گیا اللہ کے رب ۱؎ ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کر لیا ۲؎ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ۳؎ کا اقرار کر لیا، تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی ۴؎، (راوی کہتے ہیں) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے۔ (چنانچہ) عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے، تو آپ نے دہرا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3133]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ” میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا “ تو جنت اس کے لیے واجب گئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1529]