حدیث نمبر: 3116
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ ، وَلَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں مسلمان کے نتھنے میں جمع نہیں ہو سکتے ، اور نہ ہی کسی مسلمان کے دل میں بخل اور ایمان اکٹھا ہو سکتے ہیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: نہ بخیل کامل مومن ہو سکتا ہے، اور نہ ہی کامل مومن بخیل ہو سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3112 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3112 | سنن نسائي: 3113 | سنن نسائي: 3114 | سنن نسائي: 3115 | سنن ابن ماجه: 2774

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2774 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ کا غبار، اور جہنم کا دھواں، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2774]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں گردوغبار سے واسطہ پڑتا ہے۔
اس مشقت سے ڈر کر جہاد سے کنارہ کشی جائز نہیں۔

(2)
جہاد کے لیے خلوص کے ساتھ سفر کرنے والا جہنم کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2774 سے ماخوذ ہے۔