حدیث نمبر: 3113
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي وَجْهِ رَجُلٍ أَبَدًا ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی آدمی کے چہرے پر اللہ کے راستے ( یعنی جہاد ) میں نکلنے کی گرد اور جہنم کی آگ دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے ، اور بخل اور ایمان کبھی کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی جو شخص صحیح معنی میں مومن ہو گا وہ بخیل نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجهاد / حدیث: 3113
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3112 | سنن نسائي: 3114 | سنن نسائي: 3115 | سنن نسائي: 3116 | سنن ابن ماجه: 2774

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2774 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ کا غبار، اور جہنم کا دھواں، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2774]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں گردوغبار سے واسطہ پڑتا ہے۔
اس مشقت سے ڈر کر جہاد سے کنارہ کشی جائز نہیں۔

(2)
جہاد کے لیے خلوص کے ساتھ سفر کرنے والا جہنم کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2774 سے ماخوذ ہے۔