سنن نسائي
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
بَابُ : وُجُوبِ الْجِهَادِ باب: جہاد کی فرضیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ , فَنَزَلَتْ : أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ سورة الحج آية 39 , فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ .
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا «إنا لله وإنا إليه راجعون» یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے ۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير» ” جن ( مسلمانوں ) سے ( کافر ) جنگ کر رہے ہیں ، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں ۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے “ ۔ ( الحج : ۳۹ ) تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہو گی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ” یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا «إنا لله وإنا إليه راجعون» یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير» ” جن (مسلمانوں) سے (کافر) جنگ کر رہے ہیں، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے۔“ (الحج: ۳۹) تو میں نے سمجھ لیا کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3087]
(2) نبی کا کسی قوم سے نکل جانا اس قوم کی بدنصیبی اور اس کے لیے ہلاکت کا پیغام ہے، جب کہ نبی کا وجود رحمتِ الٰہی ہے اور عذاب سے تحفظ کی ضمانت ہے۔ جب تک کوئی نبی اپنی قوم میں رہا، عذاب نہیں آیا، خواہ کفر کتنا ہی عام تھا۔