سنن نسائي
كتاب مناسك الحج— کتاب: حج کے احکام و مناسک
بَابُ : الدُّعَاءِ بَعْدَ رَمْىِ الْجِمَارِ باب: جمرات کی رمی کے بعد کی دعا کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : بَلَغَنَا " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَنْحَرَ ، مَنْحَرَ مِنًى رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا ، فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو يُطِيلُ الْوُقُوفَ ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ ، يَدْعُو ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
´زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے ، تو اسے سات کنکریاں مارتے ، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے ، پھر ذرا آگے بڑھتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے ، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے ، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے ۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو کر دعا کرتے ۔ پھر اس جمرے کے پاس آتے ، جو عقبہ کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور اس کے پاس ( دعا کے لیے ) کھڑے نہیں ہوتے ۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی ، وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3085]
(2) بعض احادیث میں جو وادی کے پیٹ یا نشیب وغیرہ کا ذکر ہے، وہ اس دور میں تھا، بعد میں بھی رہا، مگر آج کل تو جمرات کے اردگرد ہر طرف جگہ ہموار ہے، کوئی نشیب و فراز نہیں۔ جمرات کو ستون نما بنا دیا گیا ہے بلکہ آج کل انھیں لمبی دیوار کی شکل دے دی گئی ہے۔ ہر طرف وسیع اور ہموار پختہ سڑکیں پھیلا دی گئی ہیں تاکہ رش پر قابو پایا جا سکے۔ یہ سب حاجیوں کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی (طواف سے) لوٹ کر۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1998]