حدیث نمبر: 3034
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، أَنَّ كُرَيْبًا ، قَالَ : سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، فَقُلْتُ : كَيْفَ فَعَلْتُمْ ؟ قَالَ : " أَقْبَلْنَا نَسِيرُ ، حَتَّى بَلَغْنَا الْمُزْدَلِفَةَ ، فَأَنَاخَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ ، فَأَنَاخُوا فِي مَنَازِلِهِمْ ، فَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ ، فَنَزَلُوا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ، انْطَلَقْتُ عَلَى رِجْلَيَّ فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ وَرَدِفَهُ الْفَضْلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کریب کہتے ہیں کہ` میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے اور وہ عرفہ کی شام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے پوچھا : آپ لوگوں نے کیسے کیا ؟ انہوں نے کہا : ہم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو بٹھایا ، پھر مغرب پڑھی ، پھر آپ نے لوگوں کو ( اترنے کی اطلاع ) بھیجی ، تو لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانوں پر اپنے اونٹ بٹھا لیے ۔ تو ابھی وہ اتر بھی نہ سکے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری نماز عشاء بھی پڑھ لی ۔ پھر لوگ اترے اور قیام کیا ، پھر صبح کی تو میں قریش کے پہلے جتھے والوں کے ساتھ پیدل گیا ۔ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( اونٹ پر ) سوار ہوئے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3034
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحج 64 (1921)، سنن ابن ماجہ/الحج 59 (3019)، موطا امام مالک/الحج 65 (197)، (تحفة الأشراف: 116)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 6 (139)، 35 (181)، الحج 93، 95 (1667، 1669، 1672)، صحیح مسلم/الحج45، 47 (1280)، مسند احمد (5/200، 202، 208، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)»