حدیث نمبر: 3021
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَاسٍ ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَنَا رَدِيفُهُ فَجَعَلَ يَكْبَحُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَنَّ ذِفْرَاهَا لَيَكَادُ يُصِيبُ قَادِمَةَ الرَّحْلِ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ فِي إِيضَاعِ الْإِبِلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے چلے ، اور میں آپ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا ، تو آپ اپنی سواری اونٹ کی نکیل ( اسے تیز چلنے سے روکنے کے لیے کھینچنے لگے یہاں تک کہ اس کے کان کی جڑیں پالان کے اگلے حصے کو چھونے لگی ) اور آپ فرما رہے تھے : ” لوگو ! اپنے اوپر وقار اور سکون کو لازم پکڑو ، کیونکہ بھلائی اونٹ دوڑانے میں نہیں “ ( بلکہ لوگوں کو ایذا پہنچانے سے بچنے میں ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3021
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 47 (1286)، (تحفة الأشراف: 95)، مسند احمد (5/201، 207) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عرفہ میں ٹھہرنے کی فرضیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے چلے، اور میں آپ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا، تو آپ اپنی سواری اونٹ کی نکیل (اسے تیز چلنے سے روکنے کے لیے کھینچنے لگے یہاں تک کہ اس کے کان کی جڑیں پالان کے اگلے حصے کو چھونے لگی) اور آپ فرما رہے تھے: لوگو! اپنے اوپر وقار اور سکون کو لازم پکڑو، کیونکہ بھلائی اونٹ دوڑانے میں نہیں (بلکہ لوگوں کو ایذا پہنچانے سے بچنے میں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3021]
اردو حاشہ: آپ نے سواری کی مہاراس لیے کھینچ رکھی تھی کہ سواری تیز نہ چلے اور لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ مجمع میں جانور بھگانا سنجیدگی اور وقار کے خلاف ہے، البتہ کھلی جگہ ہو اور مزاحمت نہ ہو تو سواری کو تیز چلایا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3021 سے ماخوذ ہے۔