سنن نسائي
كتاب مناسك الحج— کتاب: حج کے احکام و مناسک
بَابُ : فَرْضِ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ باب: عرفہ میں ٹھہرنے کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3020
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ ، لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ ، فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے ، اور آپ کے پیچھے سواری پر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سوار تھے ، تو اونٹنی آپ کو لیے ہوئے گھومی ، اور آپ اپنے دونوں ہاتھ ( دعا کے لیے ) اٹھائے ہوئے تھے لیکن وہ آپ کے سر سے اونچے نہ تھے تو برابر آپ اسی حالت پر چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے گئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´عرفہ میں ٹھہرنے کی فرضیت کا بیان۔`
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے، اور آپ کے پیچھے سواری پر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سوار تھے، تو اونٹنی آپ کو لیے ہوئے گھومی، اور آپ اپنے دونوں ہاتھ (دعا کے لیے) اٹھائے ہوئے تھے لیکن وہ آپ کے سر سے اونچے نہ تھے تو برابر آپ اسی حالت پر چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3020]
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے، اور آپ کے پیچھے سواری پر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سوار تھے، تو اونٹنی آپ کو لیے ہوئے گھومی، اور آپ اپنے دونوں ہاتھ (دعا کے لیے) اٹھائے ہوئے تھے لیکن وہ آپ کے سر سے اونچے نہ تھے تو برابر آپ اسی حالت پر چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3020]
اردو حاشہ: حج کا سارا سفر سکون سے ہونا چاہیے، نہ کسی کو پکارا جائے نہ راستہ مانگا جائے اور نہ جانور کو تیز کیا جائے، بلکہ جانور کو مارنا بھی منع ہے۔ اور دوران سفر دعا اور ذکر واذکار پر توجہ دینی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3020 سے ماخوذ ہے۔