سنن نسائي
كتاب مناسك الحج— کتاب: حج کے احکام و مناسک
بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ باب: عرفات میں دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3016
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، " فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ هَذَا إِنَّمَا هَذَا مِنَ الْحُمْسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا ، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا ، تو میں نے وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوف کیے ہوئے دیکھا ۔ میں نے کہا : ارے ان کا کیا معاملہ ہے ؟ یہ تو حمس میں سے ہیں ( پھر یہاں کیسے ؟ ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´عرفات میں دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔`
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا، تو میں نے وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوف کیے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا: ارے ان کا کیا معاملہ ہے؟ یہ تو حمس میں سے ہیں (پھر یہاں کیسے؟)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3016]
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا، تو میں نے وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوف کیے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا: ارے ان کا کیا معاملہ ہے؟ یہ تو حمس میں سے ہیں (پھر یہاں کیسے؟)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3016]
اردو حاشہ: (1) انھوں نے اسی رسم جاہلیت کی بنا پر یہ بات کہی جس کا ذکر سابقہ حدیث میں ہوا۔ انھیں نئے حکم کا علم نہیں ہوگا۔
(2) یاد رہے ان دو حدیثوں اور آئندہ احادیث کا مذکورہ باب سے کوئی تعلق نہیں، البتہ ان سے عرفات میں وقوف کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہ احادیث الگ باب کے تحت تھیں جو لکھنے سے رہ گیا۔
(2) یاد رہے ان دو حدیثوں اور آئندہ احادیث کا مذکورہ باب سے کوئی تعلق نہیں، البتہ ان سے عرفات میں وقوف کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہ احادیث الگ باب کے تحت تھیں جو لکھنے سے رہ گیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3016 سے ماخوذ ہے۔