حدیث نمبر: 3012
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ جَاءَ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ يَوْمَ عَرَفَةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا مَعَهُ ، فَقَالَ : الرَّوَاحَ , إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ , فَقَالَ : هَذِهِ السَّاعَةَ , قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ سَالِمٌ : فَقُلْتُ لِلْحَجَّاجِ : " إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ الْيَوْمَ السُّنَّةَ فَأَقْصِرِ الْخُطْبَةَ ، وَعَجِّلِ الصَّلَاةَ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : صَدَقَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن جس وقت سورج ڈھل گیا حجاج بن یوسف کے پاس آئے ، اور میں ان کے ساتھ تھا ۔ اور کہا : اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو آؤ چلیں ۔ تو حجاج نے کہا : اسی وقت ، انہوں نے کہا : ہاں ( اسی وقت ) ، سالم کہتے ہیں : میں نے حجاج سے کہا : اگر آپ آج سنت کو پانا چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں ، اور نماز جلدی پڑھیں ، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اس نے سچ کہا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3012
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 3008 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´عرفہ کے دن خطبہ میں اختصار کرنے کا بیان۔`
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عرفہ کے دن جس وقت سورج ڈھل گیا حجاج بن یوسف کے پاس آئے، اور میں ان کے ساتھ تھا۔ اور کہا: اگر سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو آؤ چلیں۔ تو حجاج نے کہا: اسی وقت، انہوں نے کہا: ہاں (اسی وقت)، سالم کہتے ہیں: میں نے حجاج سے کہا: اگر آپ آج سنت کو پانا چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر دیں، اور نماز جلدی پڑھیں، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3012]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھیے، روایت نمبر 3008۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3012 سے ماخوذ ہے۔