حدیث نمبر: 3001
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ ، فَمِنَّا الْمُلَبِّي ، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف چلے ۔ تو ہم میں سے بعض لوگ تلبیہ پکار رہے تھے ، اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 3001
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7266)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 46 (1284)، سنن ابی داود/الحج 28 (1816) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1284 | سنن ابي داود: 1816 | سنن نسائي: 3002

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1816 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´لبیک پکارنا کب بند کرے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ «الله أكبر» کہہ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1816]
1816. اردو حاشیہ: تلبیہ کےساتھ ساتھ تکبیر و تسبیح اور بعض مناسب دعائیں بھی مباح ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1816 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3002 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´منیٰ سے عرفہ کی جانب روانگی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات کی طرف چلے، ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور کچھ تکبیر کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3002]
اردو حاشہ: منیٰ سے 9 ذوالحجہ کو طلوع شمس کے بعد عرفات کی طرف کوچ کیا جاتا ہے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔ جاتے ہوئے لبیک کہنا بھی جائز ہے اورتکبیریں کہنا بھی، مگر اصل لبیک ہے، یعنی لبیک کثرت سے کہی جائے۔ درمیان میں تکبیریں بھی پڑھتے رہیں۔ لبیک کا سلسلہ یوم نحر کو جمرۂ عقبہ کی رمی تک جاری رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3002 سے ماخوذ ہے۔