حدیث نمبر: 2991
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : " قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کے پھل سے کترے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ عمرہ جعرانہ کا واقعہ ہے کیونکہ معاویہ رضی الله عنہ اسی موقع پر اسلام لائے تھے عمرہ قضاء کا واقعہ نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اس وقت کافر تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2991
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2738 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2990 | صحيح البخاري: 1730 | صحيح مسلم: 1246 | سنن ابي داود: 1802 | سنن ابي داود: 1803 | مسند الحميدي: 616

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2990 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عمرہ کرنے والا بال کہاں کتروائے؟`
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مروہ پر ایک عمرہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کے لمبے پھل سے کترے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2990]
اردو حاشہ: (1) یہ واقعہ جعرانہ کا ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ عمرہ 8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد ہوا۔ اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے۔ عمرے کا اختتام چونکہ مروہ پر ہوتا ہے، لہٰذا حجامت بھی وہیں یا اس کے قرب وجوار میں بنوائی جائے گی اگرچہ شرعاً کوئی جگہ مقرر نہیں۔
(2) تیر کے ساتھ لمبے بال تیر کے ساتھ کاٹے جا سکتے ہیں۔ بالوں کو کسی چیز پر رکھ کر اوپر سے تیر پھیر دیا جائے۔ موجودہ دور میں اس کے لیے نت نئے طریقے رائج ہیں۔ غرض اصل مقصود بالوں کا کتروانا یا منڈوانا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2990 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1730 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1730. حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے بال قینچی سے چھوٹے کیے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1730]
حدیث حاشیہ: ارکان حج کی بجا آوری کے بعد حاجی کو سر کے بال منڈانے ہیں یا کتروانے، ہر دو صورتیں جائز ہیں، مگر منڈانے والوں کے لیے آپ ﷺ نے تین بار مغفرت کی دعا فرمائی اور کتروانے والوں کے لیے ایک بار، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عنداللہ اس موقع پر بالوں کا منڈوانا زیادہ محبوب ہے۔
اس روایت میں حضرت معاویہ کا بیان وارد ہوتا ہے، اس کے وقت کی تعیین کرنے میں شارحین کے مختلف اقوال ہیں۔
یہ بھی ہے کہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کے متعلق نہیں ہے ممکن ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہو کیوں کہ اصحاب سیر کے بیان کے مطابق آنحضرت ﷺ نے ہجرت سے پہلے بھی حج کئے ہیں۔
علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔
وقد أخرج بن عساكر في تاريخ دمشق من ترجمة معاوية تصريح معاوية بأنه أسلم بين الحديبية والقضية وأنه كان يخفي إسلامه خوفا من أبويه وكان النبي صلى الله عليه وسلم لما دخل في عمرة القضية مكة خرج أكثر أهلها عنها حتى لا ينظرونه وأصحابه يطوفون بالبيت فلعل معاوية كان ممن تخلف بمكة لسبب اقتضاه ولا يعارضه أيضا قول سعد بن أبي وقاص فيما أخرجه مسلم وغيره فعلناها يعني العمرة في أشهر الحج وهذا يومئذ كافر بالعرش بضمتين يعني بيوت مكة يشير إلى معاوية لأنه يحمل على أنه أخبر بما استصحبه من حاله ولم يطلع على إسلامه لكونه كان يخفيه ويعكر على ما جوزوه أن تقصيره كان في عمرة الجعرانة أن النبي صلى الله عليه وسلم ركب من الجعرانة بعد أن أحرم بعمرة ولم يستصحب أحدا معه إلا بعض أصحابه المهاجرين فقدم مكة فطاف وسعى وحلق ورجع إلى الجعرانة فأصبح بها كبائت فخفيت عمرته على كثير من الناس كذا أخرجه الترمذي وغيره ولم يعد معاوية فيمن صحبه حينئذ ولا كان معاوية فيمن تخلف عنه بمكة في غزوة حنين حتى يقال لعله وجده بمكة بل كان مع القوم وأعطاه مثل ما أعطى أباه من الغنيمة مع جملة المؤلفة وأخرج الحاكم في الإكليل في آخر قصة غزوة حنين أن الذي حلق رأسه صلى الله عليه وسلم في عمرته التي اعتمرها من الجعرانة أبو هند عبد بني بياضة فإن ثبت هذا وثبت أن معاوية كان حينئذ معه أو كان بمكة فقصر عنه بالمروة أمكن الجمع بأن يكون معاوية قصر عنه أولا وكان الحلاق غائبا في بعض حاجته ثم حضر فأمره أن يكمل إزالة الشعر بالحلق لأنه أفضل ففعل وإن ثبت أن ذلك كان في عمرة القضية وثبت أنه صلى الله عليه وسلم حلق فيها جاء هذا الاحتمال بعينه وحصل التوفيق بين الأخبار كلها وهذا مما فتح الله علي به في هذا الفتح ولله الحمد ثم لله الحمد أبدا۔
(فتح الباري)
خلاصہ اس عبارت کا یہ ہے کہ حضرت معاویہ ؓ سال حدیبیہ اور سال عمرۃ القضاء کے درمیان اسلام لا چکے تھے، مگر وہ والدین کے ڈر سے اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کر رہے تھے، عمرۃ القضاء میں جب کہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب طواف کعبہ میں مشغول تھے تمام کفار مکہ شہر چھوڑ کر باہر چلے گئے تاکہ وہ اہل اسلام کو دیکھ نہ سکیں اس موقع پر شاید حضرت معاویہ ؓ مکہ شریف ہی میں رہ گئے ہوں (اور ممکن ہے کہ مذکورہ بالا واقعہ بھی اسی وقت سے تعلق رکھتا ہو)
اور سعد بن وقاص ؓ کا وہ قول جسے مسلم نے روایت کیا ہے اس کے خلاف نہیں ہے جس میں ذکر ہے کہ حضرت معاویہ ؓ عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ شریف کے کسی گھر میں چھت پر چھپے ہوئے تھے۔
یہ اس لیے کہ وہ اپنے اسلام کو اپنے رشتہ داروں سے ابھی تک پوشیدہ رکھے ہوئے تھے اور جس نے اس واقعہ کو عمرہ جعرانہ سے متعلق بتلایا ہے وہ درست نہیں معلوم ہوتا کیوں کہ اس موقع پر جو صحابہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے ان میں حضرت معاویہ ؓ کا شمار نہیں ہے اور غزوہ حنین کے موقع پر انہوں نے اپنے والد کے ساتھ مال غنیمت سے مولفین میں شامل ہو کر حصہ لیا تھا۔
غزوہ حنین کے قصہ کے آخر میں حاکم نے نقل کیا ہے کہ اس موقع پر آپ ﷺ کا سر مونڈنے والا بنی بیاضہ کا ایک غلام تھا جس کا نام ابو ہند تھا، اگر یہ ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہو جائے کہ حضرت معاویہ ؓ اس دن آپ ﷺ کے ساتھ تھے یا مکہ میں موجود تھے تو یہ امکان ہے کہ انہوں نے پہلے آپ ﷺ کے بال قینچی سے کترے ہوں اور حلاق اس وقت غائب رہاہو پھر اس کے آجانے پر اس سے کرایا ہو کیوں کہ حلق افضل ہے اور اگر یہ عمرۃ القضیہ میں ثابت ہو جب کہ وہاں بھی آپ ﷺ کا حلق ثابت ہے تو یہ احتمال صحیح ہے کہ اس موقع پر انہوں نے یہ خدمت انجام دی ہو۔
مختلف روایات میں تطیبق کی یہ توفیق محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوئی ہے۔
و للہ الحمد۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1730 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1730 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1730. حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ میں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے بال قینچی سے چھوٹے کیے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1730]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی حدیث میں صراحت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے سر کے بال حجۃ الوداع کے موقع پر منڈوائے تھے اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں چھوٹا کرایا تھا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4411)
حضرت امیر معاویہ ؓ نے عمرۂ جعرانه کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک قینچی سے چھوٹے کیے تھے کیونکہ یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے بال منڈوائے تھے۔
اور حضرت ابو طلحہ ؓ نے آپ کے بال مبارک لوگوں میں تقسیم کیے تھے۔
اور عمرۂ قضاء جو سات ہجری میں ہوا اس وقت حضرت معاویہ ؓ مسلمان نہیں ہوئے تھے، اس لیے عمرۂ جعرانه میں انہوں نے یہ خدمت سر انجام دی ہو گی۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ صلح حدیبیہ اور عمرۃ القضاء کے درمیان مسلمان ہو چکے تھے لیکن انہوں نے اپنے والدین سے ڈرتے ہوئے اپنا اسلام پوشیدہ رکھا اور جب رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ تشریف لائے تو اہل مکہ نے مکہ خالی کر دیا تھا تاکہ وہ اہل اسلام کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھ نہ سکیں، ممکن ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ اس وقت کسی وجہ سے مکہ مکرمہ ہی میں رہے ہوں اور رسول اللہ ﷺ کے بال چھوٹے کرنے کا موقع انہی حالات میں پیش آیا ہو۔
اور جن حضرات نے اس واقعے کو عمرۂ جعرانه سے متعلق بیان کیا ہے وہ اس لیے صحیح نہیں کہ جو حضرات اس وقت آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ان میں حضرت معاویہ ؓ موجود نہیں تھے، پھر اس موقع پر آپ کا سر مونڈنے والا بنو بیاضہ کا ایک غلام تھا جس کا نام ابو ہند ہے۔
(فتح الباري: 713/3)
بہرحال امام بخاری ؒ نے ان روایات سے ثابت کیا ہے کہ احرام کھولتے وقت بالوں کا مونڈنا اور چھوٹے کرنا دونوں جائز ہیں۔
اور مونڈنا افضل ہے کیونکہ اس میں بالکل زینت ختم ہو جاتی ہے اور حاجی کو ترک زینت ہی کا حکم ہے جبکہ بال چھوٹے کرانے میں زینت کا کچھ نہ کچھ حصہ سر پر باقی رہ جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1730 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1246 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال مروہ کے پاس، تیر کی دھار یا قینچی سے کاٹے تھے؟ تو میں نے انہیں جواب دیا، میرے نزدیک، میرے علم میں تمہارا یہ فعل، تمہارے خلاف دلیل ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3021]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: انسان جب عمرہ کرتا ہے تو بال مروہ پر کٹواتا یا منڈواتا ہے۔
اور حج میں بال منیٰ میں کٹوائے یا منڈوائے جاتے ہیں اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس واقعہ سے معلوم ہو ا یہ واقعہ عمرہ کا ہے جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع اور حج قران سے روکتے تھے حج افراد کا حکم دیتے تھے اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، یہ واقعہ تمہارے خلاف جاتا ہے۔
اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ عمرۃ القضاء یا عمرہ جعرانہ سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ وہ صلح حدیبیہ کے بعد دل سے مسلمان ہو چکے تھے۔
اگرچہ اسلام کا اظہار فتح مکہ کے وقت کیا ہے۔
اور حجۃ الوداع میں آپ صلی الله عليہ وسلم کے بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منیٰ میں تقسیم کیے تھے اور آپ صلی الله عليہ وسلم نے وہیں سر منڈوایا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1246 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1803 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حج قران کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کی پیکان سے کترے۔ حسن کی روایت میں «لحجته» (آپ کے حج میں) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1803]
1803. اردو حاشیہ: ➊ حضرت معاویہ نے یہ خدمت حج کے موقع پر نہیں بلکہ عمرہ جعرانہ کے موقع پر سر انجام دی تھی۔جیسے کہ سنن نسائی کی روایت میں «فی عمرتة» کی صراحت ہے۔ (سنن نسائی مناسک الحج حدیث:2990)اور حج کےموقع پر کی تعبیر یاتومجاز ہے یا وہم۔ واللہ اعلم .
➋ عمرے میں صفا مروہ کی سعی کے بعد آدمی بال کتروا کر حلال ہوتا ہے۔ جبکہ عورتوں کو ایک پورا برابر بال کاٹنا کافی ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1803 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 616 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
616- سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔یہ چیز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف حجت ہے یعنی انہوں نے یہ جو کہا کہ میں نے ایک دیہاتی کی قینچی کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مروہ پہاڑ کے قریب چھوٹے کیے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ یہ اس وقت ہواتھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کرنے سے منع کیا تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:616]
فائدہ:
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ﴿ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ﴾ (الفتح: 27)
تم لوگ مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گے، ان شاء اللہ اس حال میں کہ تم سرمنڈوائے اور بال تراشے ہو گے کسی کا خوف نہیں ہوگا
قربانی کرنے کے بعد بالوں کو منڈوانا چاہیے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا: «حلق رسول الله فى حجته» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر اپنے سر کے بال منڈوائے ۔ [صحيح البخاري: 1726] تفصیل کے لیے بخاری (1726۔ 1730)
جانور ذبح کرنے سے پہلے اگر سرمنڈوالیا جائے تو یہ بھی صحیح ہے۔ «في حجته» [صحيح البخاري: 721]
عمرے کے بعد سر کے بال منڈوانا صحيح ہے۔ [صحيح البخاري: 1731]
اگر کسی کے سر کے بال نہیں ہیں؟ امام ابن المنذر نیشا پوری رحمہ اللہ نے فرمایا: اجماع ہے کہ گنجا (حج میں) بال مونڈتے وقت اپنے سر پر استرا پھیرے گا۔ (کتاب الاجماع: 198) تا کہ سنت کا پورا اتباع ہو جائے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 616 سے ماخوذ ہے۔