حدیث نمبر: 2987
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا ، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ ، فَقَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " ، قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ ، وَسَبَّحَهُ ، وَحَمِدَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر آئے تو اس پر چڑھے پھر بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا ، پھر اللہ کا ذکر کیا اس کی تسبیح اور تحمید کی اور جو اللہ نے چاہا دعا کی ، ہر بار ایسے ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ طواف سے فارغ ہوئے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2987
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2975 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مروہ پر کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر آئے تو اس پر چڑھے پھر بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر اللہ کا ذکر کیا اس کی تسبیح اور تحمید کی اور جو اللہ نے چاہا دعا کی، ہر بار ایسے ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ طواف سے فارغ ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2987]
اردو حاشہ: کثرت تعمیرات کی وجہ سے اب مروہ سے بیت اللہ کا نظر آنا کافی دشوار ہو چکا ہے، لہٰذا مروہ پر پہنچ کر بیت اللہ کی طرف چہرہ کیا جائے اور مذکورہ اذکار کیے جائیں۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2987 سے ماخوذ ہے۔