حدیث نمبر: 2983
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ امْرَأَةٍ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ ، وَيَقُولُ : " لَا يُقْطَعُ الْوَادِي إِلَّا شَدًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صفیہ بنت شیبہ ایک عورت سے روایت کرتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرتے ہوئے دیکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اب اس حصے پر دو سبز پتھر لگا دیئے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2983
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الحج 43 (2987)، (تحفة الأشراف: 18382)، مسند احمد (6/404، 405) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´صفا مروہ میں وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرنے کا بیان۔`
صفیہ بنت شیبہ ایک عورت سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے نشیبی حصہ کو دوڑ کر طے کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: یہ وادی دوڑ کر ہی پار کی جائے گی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2983]
اردو حاشہ: وادی کے پیٹ سے مراد صفا اور مروہ کے درمیان سبز روشنیوں کے مابین نشیبی جگہ ہے، یعنی دونوں پہاڑوں کی چڑھائی کے درمیان والی جگہ۔ بارش وغیرہ کی صورت میں اس جگہ پانی بہتا تھا، اس لیے اسے وادی یا مسیل کہا گیا۔ آج کل اسے ملین اخضرین کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2983 سے ماخوذ ہے۔